غلبہء حق

by Other Authors

Page 131 of 304

غلبہء حق — Page 131

کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت و قرب کا بجز ستی اور کامل متابعت اپنے <mark>نبی</mark> کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہر گز حاصل کر ہی <mark>نہی</mark>ں سکتے۔ہمیں جو کچھ بھی ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔" پر (ازاله او نامه صه (۱۳) اس سے ظاہر ہے کہ امت میں جو شخص مومن ہو وہ طلی مومن ہی ہوتا ہے۔جو دلی ہو، غوث ہو، قطب ہو یا محدث ہو وہ یہ مقام ملی طور پر ہی حاصل کرنا ہے۔پس علی کا لفظ جس طرح اِن مقامات کے ساتھ حقیقت کی نفی <mark>نہی</mark>ں کرتا بلکہ صرف واسطہ کو ظاہر کرتا ہے اسی طرح حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام کے لیے ظلی <mark>نبی</mark> کی اصطلاح میں طلبی کا لفظ واسطہ کو ظاہر کرنے کے لیے ہے نہ کہ نبوت کی نفی کے لیے کیو نکا ظلی کا لفظ صفت ہے اور نبوت یا <mark>نبی</mark> اس کا موصوف۔اور یہ صفت موصوف کی نفی <mark>نہی</mark>ں کرتی بلکہ اس کی خصوصیت ظاہر کرتی ہے کہ اس کو یہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملا ہے۔فاروقی صاحب ! اس عبارت کے رو سے تو محدثیت بھی ملی او طفیلی طور پر ہی ملتی ہے اور حضرت اقدس میسج موعود بھی طلقی اور طفیلی طور پر ہی ہیں۔لہذا فاروقی صاحب بتائیں کہ آپ حضرت اقدس کو حقیقت میں <mark>مسیح</mark> موعود بھی مانتے ہیں یا <mark>نہی</mark>ں ؟ سنئے حضور فرماتے ہیں :- ہیں:۔جو شخص مجھے فی الواقع <mark>مسیح</mark> موعود اور مہدی معہود <mark>نہی</mark>ں مانتا وہ میری جماعت میں سے <mark>نہی</mark>ں۔" رکشتی نوح) پھر حضور کتاب <mark>مسیح</mark> ہندوستان میں کے ملا میں اپنے آپ کو حقیقی