غلبہء حق — Page 5
اس قدر کم ہے جن کی تعداد ہم مومین تو ایک طرف رہے۔کے ہندسہ تک بھی نہیں پہنچ سکی۔اور وہ بھی اپنے ہی گھر کے آدمی بجز دو چار اصحاب کے " ر پیغام صلح ۱۹ را پریل ۱۹۱۷ء) مگر چند دنوں میں ہی جب باہر کی تمام جماعت ہائے احمدیہ نے بھی ہجرت کرلی تو اخبار عصر جدید نے لکھا :- وہ گروہ جو خواجہ کمال الدین صاحب کے ہم خیال ہو کر دوسرے مسلمانوں سے بظاہر مل کر کام کرنا چاہتا ہے اور جس میں بہت سے احمدی لاہور وغیرہ کے شامل ہیں اُن کو صاحبزادہ بشیر محمود کے فریق نے تقریباً ہر جگہ شکست دے دی ہے۔الحواله التحق دہلی ۲۲ مئی ۱۹۱۳ء صد کا علم ) اس انقلاب کے بعد خلافت احمدیہ کا انکار کرنے والے یہ کہنے لگ پڑے ، کہ کثرت کوئی چیز نہیں۔رپیغام صلح ۲۴ جنوری ۶۹۴۵) حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی موجود ہے کہ میں تیرے خالص اور دلی محبتوں کا گروہ بھی بڑھا ؤنگا۔۔۔۔۔۔اور ان میں کثرت بخشوں گا۔داشتهار ۲۰ فروری ششمله غرض لاہوری فریق نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ احمدیت میں خلافت ثانیہ نہایت مضبوطی سے قائم ہوگئی ہے اور اب اس کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں۔اس لیے انھوں نے لاہور میں اپنی ایک مجلس شور می منعقد کی جس میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک دند قادیان بھیجا جائے جو میاں محمود احمد صاحب سے یہ کہے کہ ہم لوگ آپ کو جماعت کا امیر ماننے کے لیے تیار ہیں بشر طیکہ آپ دو شرطیں مان لیں۔ایک شرط یہ کہ ٹرائے احمدیوں سے بیعت نہ کی جائے۔اور دوسری