غلبہء حق — Page 102
صلی اللہ علیہ وسلم) کی کامل پیروی سے ملتی ہے ہو اُس کے چراغ سے نور لیتی ہے وہ ختم <mark>نہی</mark>ں کیونکہ وہ <mark>محمد</mark>ی بوت ہے یعنی اس کا ظل " (چشمہ معرفت ص۳۲) پس حضرت اقدس کا مل خلقتی <mark>نبی</mark> ہیں اور علی نبوت ، نبوت کی ہی ایک قسم ہے ہاں محدثین امت کو بھی ظلی نبوت سے کچھ حصہ ملا ہے مگر کسی محترث امت کو آپ سے پہلے اس سے کامل حصہ <mark>نہی</mark>ں ملا اس لیے اس وقت تک امت میں حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی <mark>نبی</mark> کا نام پانے کے لیے ایک مخصوص فرد ہیں اور آپ سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء میں سے کوئی شخص بھی حقیقی خلقی <mark>نبی</mark> نہ ہونے کی وجہ سے <mark>نبی</mark> کا نام پانے کا سختی <mark>نہی</mark>ں۔ہاں وہ حجاز اظلی <mark>نبی</mark> قرار دیئے جا سکتے ہیں نہ حقیقہ کلی <mark>نہی</mark>۔کامل اور حقیقی کا لفظ بھی ایک اضافی اور نسبتی <mark>امر</mark> ہے۔چنانچہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری جن کا مشورہ فاروقی صاحب کی کتاب میں شامل ہے۔رسالہ روح اسلام بابت مارچ 1972 میں لکھتے ہیں ہاں :- اب ذیل میں لفظ " صریح طور پر (یعنی حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام کے صریح طور پر <mark>نبی</mark> کا خطاب پانے۔ناقل ) کی تشریح بھی عرض کر دی جاتی ہے۔واضح ہو کہ یہ لفظ اولیاء کرام کے مقابلہ میں ہی استعمال ہوا ہے انہوں نے چونکہ ر<mark>نبی</mark> کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ناقل کامل عکس <mark>نہی</mark>ں لیا تھا۔اس لیے نبوت <mark>محمد</mark> یہ ان کے وجود میں گو موجود تھی ، مخفی تھی۔کامل عکس سے حضور کی مراد حضرت <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام کی اپنے آپ کو آنحضر