غلبہء حق — Page 93
ریعنی آپ کی نبوت کے بھی۔ناقل یہ معنی نہ سمجھے ہیں کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے 499 ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں او قرآن شریف خاتم الكتب (مکتوب ار ا گست (۱۹۹) اس تعریف نبوت سے ظاہر ہے کہ آپ اس وقت بنی کے لیے یہ شرط ضروری سمجھتے تھے کہ اگر وہ شریعت یا احکام جدیدہ نہ لائے تو کم از کم وہ کسی دوسرے نبی کا اتنی نہیں کہلاتا اور بلا استفادہ کسی نبی کے خدا سے تعلق رکھتا ہے۔چونکہ یہ رسمی تعریف نبوت آپ پر صادق نہیں آتی تھی اس لیے آپ اس تعریف کے ماتحت اپنے آپ کو بنی قرار نہیں دیتے تھے اور اپنے الہامات میں نبی اور رسول کی یہ تاویل کر لیتے تھے کہ آپ صرف محدث ہیں یا جزوی نبی۔اور گو اس زمانہ میں بعض الہامات آپ کے حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل ہونے کا اشارہ کر رہے تھے۔مگر آپ اپنے آپ کو گورانبی نہ سمجھنے کی وجہ سے اُن الہامات کی بھی یہ تا دیل فرما لیتے تھے کہ آپ کو حضرت عیسی علیہ اسلام پر محض ایک جزوی فضیلت حاصل ہے جو ایک غیر نبی کو بی پر بھی ہو سکتی ہے۔لیکن بعد میں خدا تعالیٰ بارش کی طرح دحی سے آپ پر یہ انکشاف ہو گیا کہ آپ نے صریح طور پر بنی کا خطاب پایا ہے تو آپ اپنے پہلے عقیدہ پر قائم نہ رہے اور اس میں تبدیلی فرمائی۔کیونکہ اس زمانہ میں آپ پر صریح لفظوں میں یہ المنام بھی نازل ہو چکا تھا کہ: " مسیح محمدی میسج موسوی سے افضل ہے۔رکشتی نوح مطبوع شراء) اس سے آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ آپ اپنی تمام شان میں مسیح ابن مریم سے بہت بڑھ کر ہیں۔اس امر کو سمجھنے کے لیے حقیقۃ الوحی 1 تا 100 ملاحظہ کیا جائے پس یہ امر سمجھ لینے کے بعد کہ آپ اپنے الہامات میں صریح طور پر نبی قرار دیئے گئے