غلبہء حق — Page 71
النبين۔ترجمہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری مثال اور ان نبیوں کی مثال جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں ایک ایسے شخص کی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا۔پس اسے بہت چھا بنایا اور خوبصورت بنایا۔مگر اس کے کونہ سے ایک اینٹ کی جگہ خالی رہی۔سو لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور اس پر تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔فرمایا ئیں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیہ بین ہوں۔رفتح حق ص ۱۲) واضح ہو کہ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثال اپنے سے پہلے گزرے ہوئے نبیوں سے دی ہے۔یہ سب ؟ و جو آدم علیہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک گذرے مستقل انبیاء تھے اور یہ بات ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مستقل انبیاء میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔پس خاتم النبیین میں انقطاع نبوت کا جو مفہوم ہے وہ اس حدیث سے حسین ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری مستقل بنی ہیں اور کوئی مستقل نبی آپ کے بعد تا قیامت نہیں آسکتا۔لیکن ظلی نبی اور امتی نبی کے آئے ہیں یہ حدیث روک نہیں اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظلی نبی اور امتی نبی قرار دیا ہے۔محمد ثین نے اس حدیث کی تشریح میں محل سے مراد محل شریعت کیا ہے جس کی تکمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعیت کے ذریعہ ہوئی ہے۔چنانچ