غلبہء حق — Page 296
۲۹۶ فاروقی صاحب کی اس ساری بحث سے ظاہر ہے کہ انہوں نے خلافت احمدیہ حقہ سے انکار کر کے نبوت مسیح موعود کے متعلق محض تفریط کی راہ اختیار کر رکھی ہے اور ا کمی عقائد کسی ٹھوس بنیاد پر مبنی نہیں۔اُن کا حال اُس فرقہ کے مشابہ ہے جو امت موسویہ کے مسیح موعود حضرت علیم علیہ السلام کو از راہ تفریط نبی نہیں مانتا تھا بلکہ صرف کی جانتا تھا اور موسوی دین کا ایک مجدد وقت سمجھتا تھا یہ فرقہ عتانیہ کہلاتا تھا اور واؤد بن عنان اس کا بانی تھا۔اللہ تعالی نے اس وقت تک ہماری جماعت کو غلو کی راہ سے بچایا ہے اور ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے مطابق آپ کو ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی یا ظلی نبی ہی مانتی ہے اور حضور کے اپنے فرمان مندرجہ شمہ معرفت کے مطابق اسے ایک قسم کی نبوت یقین کرتی ہے اور حضور کے ہی فرمان کے مطابق خدا کے حکم اور اصطلاح میں آپ کو نبی یقین کرتی ہے۔ہاں غیر احمدیوں کی معروف اصطلاح میں جسے آج کل منکرین خلافت بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہرگز نبی نہیں قرار دیتے۔پس اپنی کتاب فتح حتی " میں فاروقی صاحب کا ہماری جماعت کو عیسائیوں کے غالی فرقہ سے تشبیہ دنیا جنھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنا لیا صریح بے انصافی ہے بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ظلم ہے۔اللہ تعالٰی ہمارے ان بھائیوں کی آنکھیں کھولے تا یہ اپنے نفع و نقصان کو پہچان سیکس اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد پر ناپاکی حملے کر کے سلسلہ احمدیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر کے اپنا نامہ اعمال سیاہ کرنے سے باز رہیں۔اللهم آمین! واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين محمد نذیر لائل پوری