غلبہء حق — Page 274
۲۷۴ ہوگا ، مگر شرط یہ ہوگی کہ اگر وہ موقعہ پر پہنچ جائیں۔سیکرٹری شور کی تمام ملک میں اطلاع دے دیں کہ فوراً پہنچ جاؤ اس کے بعد جو نہ پہنچے اس کا اپنا قصور ہوگا اور اس کی غیر حاضری خلافت کے انتخاب پر اثر اندازہ نہ ہوگی۔“ { تقريرية 14-100 لمیٹڈ ربوہ ۱۵-۱۶ شرکت اسلامیکم اب فیصلہ میں قارئین کرام پر چھوڑتا ہوں۔وہ حوالہ جات کے پیش کرنے میں فاروقی صاحب کی غیر ذمہ دارانہ حرکت ملاحظہ فرمالیں اور دیکھ لیں انتخاب کا یہ طریق فقہائے اسلام کے بیان کردہ طریق کے مطابق ہے یا نہیں ؟ پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ جماعت پر ٹھونسا نہیں بلکہ 1924ء کی مجلس مشاورت میں حضور نے اسے بطور تجویز مجلس شوری پیش کیا اور اس پر ممبران مجلس شوری کی رائے لی گئی اور باتفاق رائے یہ تجویز بصورت ریزولیوشن پاس ہوئی۔(دیکھو رپورٹ مجلس مشاورت (1400021406 اور یہ امر فاروقی صاحب کی دیدہ و دانستہ غلط بیانی ہے کہ :- میاں محمود احمد صاحب نے اپنے بیٹے کو اپنے بعد اپنی گدی پر متمکن کرنے کا ڈھونگ رچایا اورد دستر پیروں کی گدیوں اور اس میں فرق نہ رہا " رفتح حق ۲۵ ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا خلیفہ کے انتخاب کے لیے یہ