غلبہء حق — Page 269
" میں تو ان کے بہت سے مریدوں نے تنگ آکر اپنی علیحدگی کا اعلان کر دیا۔رفتح حق ط ۲-۴۲) حالا نکہ یہ صرف چند افراد تھے جنھیں فاروقی صاحب نے بہت سے مرید قرار دیکر ایک صریح غلط بیانی کا ارتکاب کیا ہے۔منافقین تو آغاز اسلام ہیں بھی موجود تھے اور ان کی مذموم حرکات کا بھی قرآن کریم میں ذکر موجود ہے۔کہ ان کا کام الزام تراشی۔اور شرارت ہی تھا۔ان کے بارہ میں ایک خاص سورۃ "المنافقون" کے نام سے قرآن کریم میں موجود ہے۔پس منافقوں کا احمدیہ جماعت میں پایا جاتا اور پھر ان کا الگ کیا جانا یا اُن کا آپ بھی الگ ہو جانا تو جماعت احمدیہ کی سچائی کا ایک ثبوت ہے اور اس بات کی روشن دلیل کہ ہماری تنظیم خدا کے فضل سے ایسی ہے کہ منافق اس میں زیادہ عرصہ پنپ نہیں سکتا۔اور زہر دیا بدیر اس کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔پس منافقین سچی جماعت کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔طریق انتخاب خلافت اسلام میں انتخاب خلیفہ کا جو سادہ اور آسان طریق ہے اس کا ذکر۔۔۔۔مقدمه ابن خلدون ص ۱ مطبوعہ مصر میں یوں ہے :- رد جوب طے ہو گیا کہ امام کا مقرر کرنا اجتماعی طور پر واجب ہے تو یہ امر فرض کفایہ قرار پایا۔اب ارباب حل و عقد کے ذمہ ہوگا کہ وہ خلیفہ کا تقرر کرے اور باقی جماعت واجب ہوگا کہ سب کے سب خلیفہ کی اطاعت کریں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اطیعوا