غلبہء حق

by Other Authors

Page 236 of 304

غلبہء حق — Page 236

۲۳۶۔فاروقی صاحب تو آج یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد صاحب کی جملہ تحریرات اور الہامات میں کہیں بھی اپنے بعد خلافت کے قیام کا تذکرہ نہیں" حالانکہ صد را نمین احمدیہ کے مہروں نے حضرت اقدس کی وفات پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کے مطابق ساری جماعت کو ایک شخص کے ہاتھ پر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جانشین اور اپنے لیے واجب الاطاعت امام سمجھتے ہوئے بیعت کر لینی چاہیئے۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ کے ممبروں نے یہ جیت حضرت خلیفہ المسیح الاول ض کے ہاتھ پر خود بھی کی اور جماعت سے بھی کرائی اور حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ کو واجب الاطاعت خلیفہ اسے تسلیم کیا بلکہ ان لوگوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ آپ کا حکم ہمارے لیے ایسا ہی ہو گا جیسا خود حضرت مسیح موعود کا حکم - پس صدر انجمن اور ساری جماعت کا ایک خلیفہ کے ہاتھ پر جمع ہو جانا اس بات کا عملی اقرار ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی صبیت یا تحریر کو پس پشت نہیں ڈالا گیا ، بلکہ انھیں ملحوظ رکھتے ہوئے حضرت مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ کے واجب الاطاعت خلیفہ اسے تسلیم کیا گیا ہے۔پس جب عمد رانجمن احمدیہ کے ممبروں نے حضرت مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور ساری جماعت کا آپ کی خلافت پر اجماع ہو گیا اور صدر انجمن احمدیہ نے بھی اپنے اجتہاد سے حضرت خلیفہ اسیح الاول کو واجب الاطاعت مان لیا تو ۷ ۲ اکتوبر کی تحریر پر بھی عمل ہوگیا۔کیونکہ صدر انجمن نے اپنے اجتہاد سے حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ کو خلیفہ المسیح اور واجب الاعات امام تسلیم کر لیا - حدیث نبوی میں آیا ہے :- لَا تَجْتَمَعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ کہ میری امت ضلالت پر جمع نہیں ہو سکتی۔