غلبہء حق — Page 231
۲۳۱ کے متعلق تھا ، فاروقی صاحب حسب عادت اُسے اپنی جبلت کے تقاضے سے حضرت میسج موعود علیہ السلام کی تصریحات کو نظر انداز کر کے اُسے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر چسپاں کر رہے ہیں۔پھر حدیث لانبی بعدی کی موجودگی میں تو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے تئیں نبی قرار دیا ہے اور اپنی ظلی نبوت کو اس حدیث کے خلاف قرار نہیں دیا۔آپ نے صرف مستقلہ نبوت کو اس حدیث کی رو سے ممتنع قرار دیا ہے ملاحظہ ہو اشتہار ایک غلطی کا ازالہ جس کے شروع صنفی است میں یہ حدیث زیر بحث ہے۔بالآ خر عرض ہے کہ فاروقی صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ پرسنگین الزامات لگا کر آپ کو بجائے مصلح کے معاذ اللہ مفسد قرار دے کر ایک رنگ میں دشمن اسلام لیکھرام کی نمائندگی کی ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف یہ لکھا تھا کہ آپ کے ہاں کوئی مصلح پیدا نہیں ہوگا اور اگر یہ یا بھی ہوا تو وہ مصلح موعود کے صفات کے بر عکس صفات رکھتا ہوگا - إِنَّا لِلَّهِ وَ ادْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - محمود بہشت میں اس باب کو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رویاء پر ختم کرتے ہیں جو اہل صفوت لوگوں کے لیے حضرت محمود اید اللہ الودود کے نیک انجام کی بشارت پر مشتمل ہیں گو اُن میں انذار کا پہلو بھی ہے :- حضور تحریر فرماتے ہیں : آج بوقت قریب دو بجے رات کے میں نے خواب میں دیکھا که میری بیوی آشفتہ حال کسی طرف گئی ہوئی ہے ہیں نے ان کو بلایا اور کہا چلو تمھیں وہ درخت دکھا آؤں پس میں باہر کی طرف لے گیا جب درخت کے قریب پہنچے ،