غلبہء حق — Page 205
۲۰۵ ہو گئی تھی۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب نے اس کی ایل جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کی عدالت میں کی۔اس پر مسٹر کھوسلہ نے سید عطاء اللہ شاہ کی مرا میں تخفیف کر دی اور جماعت احمدیہ کے بانی اور موجودہ امام کے خلاف قابل اعتراض فقرات لکھے۔قدرنا اس سے جماعت احمدیہ میں غم و شفتہ کی شدید لہر پیدا ہوئی کیونکہ دہ فریق مقدمہ نہ تھے۔انداز پیر دفعہ ۵۴۱ - الف ضابطہ فوجداری اس فیصد میں سے بعض قابل اعتراض حصوں کے اخراج کی درخواست ہائی کورٹ میں پیش کی گئی۔اس درخواست کی سماعت آنریبل مسٹر جسٹس کولڈ سٹریم نے کی۔جماعت احمدیہ کی طرف سے رائٹ آنریبل مرتیج بہادر سپردو پی سی غیرہ نے پیری کی۔ہائی کورٹ کے آخر میں میٹس کولڈ سٹریم نے پہلے جی ڈی کھوسلہ سیشن جی کے محولہ بالا فیصلہ کے الفاظ اپنے فیصلہ میں اس طرح نقل کیے :- " اب میں ان الفاظ کو لیتا ہوں کہ اپنے عقائد کو منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لیے انھوں نے (احمد کو نے ایسے ہتھیار استعمال کیے جو معمولی حالات میں نہایت ناپسندیدہ سمجھے جائیں گے۔جو لوگ ان میں شامل ہونے سے انکار کرتے یہ انہیں نہ صرف بائیکاٹ اور اخراج بلکہ اس سے بھی سخت تر اقدام کی دھمکیاں دیکر ڈراتے بلکہ بسا اوقات ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی تبلیغ کی تائید بھی کرتے۔الخ یہ الفاظ نقل کرنے کے بعد آنریل سیٹس نے تحریر فرمایا کہ : سیشن جج کے یہ الفاظ واقعات کا بالکل صحیح بیان نہیں