غلبہء حق — Page 129
زبور لانے والے نبی بھی حقیقی نبی تھے۔ہاں آدم علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حقیقی نبی نہ تھے اور اسی طرح موسی ، داؤد، عیسے اور باقی تمام انبیاء علیهم السلام گیا سب اپنی ذات میں حقیقی نبی تھے ، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حقیقی نہ تھے اور جب حقیقی نہ تھے تو اس نسبت سے مجازی ہوئے۔(۳) حقیقی اور کامل مهدی دنیا میں صرف ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جو محض اُتھی تھا یا د اربعین ۲ ص) (۴) و کامل اور حقیقی مہدی دنیا میں صرف ایک ہی آیا جس نے بغیر اپنے رب کے کسی استاد سے ایک حرف نہ (تحفہ گولڑویہ ص ) ( پڑھا۔حضرت مسیح موعود بھی اپنی ذات میں تو حقیقی مہدی ہیں لیکن نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم کی نسبت سے دوسرے تمام انبیاء کی طرح آپ بھی حقیقی مہدی نہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ذات میں تو حقیقی اور کا مل خلقی نبی ہیں جو نبوت کی ایک قسم ہے۔(چشمہ معرفت ص۳۲۲) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آپ کو جو کچھ ملا ہے وہ مجازی اور علی حیثیت ہی رکھنا ہے اسی لیے آپ نے " استفتاء میں فرمایا :- "سميتُ نَبيَّا مِنَ اللهِ عَلَى طَرِيقِ الْمَجَانِ لَا عَلَى وَجْهِ الْحَقِيقَةِ کہ میرا نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاز کے طریق پر نبی رکھا گیا ہے نہ کہ حقیقت کے طریق پر۔یعنی آپ نے مقام نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے