Fulfilment of a Grand Prophecy - Hazrat Ahmad’s Challenge to John Alexander Dowie

by Anwer Mahmood Khan

Page 15 of 94

Fulfilment of a Grand Prophecy - Hazrat Ahmad’s Challenge to John Alexander Dowie — Page 15

CA. Fulfillment of a Grand Prophecy 15 تمر ۵۰۸ تحقیق به الومین ے مضمون یہ تھا کہ اسلام سچا ہے اور عیسائی مذہب کا عقیدہ جھوٹا ہے۔ اور کس ندا تعالیٰ کی طرف سے ذہنی مسیح ہوں جو آخری زمانہ میں آنیوالا تھا اور مینوں کے نمبر نام اخبار میخ تاریخ خلاص مضمون (۱۷) البنی پرنیسیس ۲۵۰ رمان ماه مباطلہ کا ذکر ہے (۱۸) اسی کیستوال ما نیز در در جون ماده (۱۹) بالٹی مور امریکن و سر جوان انگاره (19) (۲۰) بغلو ٹا ئمز ۲۵ جون ۱۹۰۳ء (۲۱) نیویارک میل ۱۲۰ جون شده (۲۲) پوسٹن ریکارو ، ۲ جون ست داره (۳۳) ڈیزرٹ انگلش نیوز ۲۰۷ جون بکشید (۳۵) گردم شایر گن ، جولائی ۱۹ این (۲۶) تو نیٹن کرانیکال ایضا (۲۷) جومٹن کرواتیکان در جولائی ۲۱۱ (۳۸) سونا نیوز ۲۹ جون شده " 4 (۲۹) ریمنڈ نیوز یکم جولائی ۹۳ (۳۰) گلاسگو پیریڈے اور اکتو بر با اشاره (۳۱) نیو یارک کمرشل ایڈور ٹاور اگر ولی اشاد کا اصرار اس پانی کو منظور کرایا تو پورے ایک دوسرے کے ساتھ اراکی ا راکتو بر شمار ہوگا اور اگر وہ اس چینی کو بلا کر گیا تی ای اس ایوان ریاست آفت آئیگی۔ (۳) دی مارنگ ایران نوار بالا اور ڈرٹی پر بوڑھا کرنے کا ذکر ہے۔ کاذکر ہے۔ ٹیلیگراف ۱۲۸ اکتوبر ۱۹۸۷ در روز یا ابا صرف دو ہیں جو ہم تک پہنچے ہیں۔ ان کیسے معلوم ہوا اور ایک کو ان اداروں میں یہ کیا ہوا ہو گا میشد ۵۱۰ حقيقة الرحمن ہے اور میں ہمیشہ اس بارہ میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا تھا اور کاذب کی موت چاہتا تھا۔ چنانچہ کئی دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تو غالب ہوگا اور دشمن ہلاک کیا جائے گا اور روٹی کے کرنے سے قریبا پندرہ دن پہلے خداتعالیٰ نے اپنی کلام کے ذریعہ سے مجھے میری فتح کی اطلاع پخشی جس کو میں اس رسالہ میں جن کا نام ہے قادیان کے آریہ اور ہم اس کے ٹائٹل پیج کے پہلے ورق کے دوسرے صفحہ میں ڈوٹی کی موت سے قریبا دو ہفتہ پہلے شائع کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے۔ تازہ نشان کی پیش گوئی خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کرونگا جس میں ستم عظیم ہوگی وہ تمام دنیا کیلئے ایک نشان ہوگا یعنی ظہور اس کا صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہو گا ) اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہوگا چاہیے کہ ہر ایک آنکھ اُسکی منتظر رہے۔ کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کردیگا۔ تاوہ یہ گواہی ہے کہ یہ عاجز جس کو تمام قومیں گالیاں دے رہی ہیں اُسکی طرف سے ہے۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھا ہے۔ 19. 6 میرزا غلام احمدمسیح موجود مشتهره ۲۰ فروری ۱۹۰۴ء أحاشیه - هر فروری شاور کو مجھے یا الهام جوا که انك انت الاعلی امین مالی تھی کو ہوگا اور پھر اسی ایکا مجھے ی الہام ہوا العيد الآخر قتال منہ فتحا عظیم اپنے ایک اور خوشی کا نشان تجھ کو ملیگا جس سے ایک بڑی فتح تیری ہوگی جس میں یتیم ہوئی کہ ملک مشرقیہ میں وسعد امداد اتوی میری پیشگوئی اور مقابلہ کے بعد جنوری کے پہلے ف عظم ہفتہ میں ہی نمونیا پایا سے مر گیا۔ یہ تو پہلا نشان تھا۔ اور دوسرانشان اس سے بہت ہی بڑا ہو گا جس میں فتح کی ہوگی۔ سو وہ ڈولی کی مدت ہے جو مالک مغربیہ میں ظہور میں آئی ۔ دیکھو پر پراخبار بدتر سم از فروری انتشار و ایست خدا تعالٰی کا دو الہام پورا ہوا کہ میں دو نشان دکھلاؤں گا۔ منہ ۵۰۹ حقیقة الوحی نوشتوں میں اس کا وعدہ تھا اور نیز نمیں نے اس میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر روئی اپنے د کوئی رسول ہونے اور تثلیث کے عقیدہ میں چھوٹا ہو۔ اگر وہ مجھ سے مباہلہ کرے تو میری زندگی میں ہی بہت سی حسرت اور دُکھ کے ساتھ مری گا۔ اور اگر مباہلہ بھی نہ کرے تب بھی وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ اسکے جواب میں بدقسمت بچ ڈوئی نے ڈسمبر من الر کے کسی پر جہمیں اور نیز ، ستمبر 1 ار وغیرہ کے اپنے پرچوں میں اپنی طرف سحر یہ چند سطریں انگریزی میں شائع کیں جن کا ترجمہ ذیل میں ہے:ہندوستان میں ایک ہیو قوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا اور کہ توکیوں اس شخص کا جواب نہیں دیتا مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دونگا اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں انکو کچل کر مار ڈالوں گا۔ اور پھر پوچہ 19 دسمبر تا 19 ء میں لکھتا ہو کہ میرا کام یہ ہو کہ میں مشرق اور مغرب اور شمال اور ہے اور جنوب سے لوگوں کو جمع کروں اور سیمیوں کو اس شہر اور دوسرے شہروں میں آباد کر دل بیہانتک کے دو دن آجائے کہ مذہب محمدی دنیا سے مٹایا جائے۔ اے خدا ہمیں وہ وقت دکھلائے غرض یہ شخص میرے مضمون مباہلہ کے بعد جو یورپ اور امریکہ اور اس ملک میں شائع کا تھا بلکہ تمام دنیامیں شایع ہو گیا تھا شوی میں روز بروز بڑھتا گیا۔ وہ اس طرف مجھے یہ انتظار تھی کہ جو کچھ میں نے اپنی نسبت اور اس کی نسبت خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہا ہے ضرور خدا تعالے سچا فیصلہ کریگا اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ کا ذب اور صادق میں فرق کر کے دکھانا دیگا ۔ ے اس اشتہار کے محرم کو پڑھو جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ۱۳ اگست تا ایہو کو بزبان انگریزی میں نے ڈوئی کے مقابل پر ایک اشتہار شائع کیا تھا اور خداتعالی اسے الہام پا ک اس میں لکھا تھا کہ خواہ ہوئی میرے ساتھ میا ہار کرے یا نہ کرنے دو خدا کے مزا ہے نہیں بھیگا اور اندر جھوٹے اور تھے میں یہ عمل کر کے دکھانا دیگا۔ منہ ۱۲ حقیقة الوحي اب ظاہر ہے کہ ایسا نشان جو فتح عظیم کاموجب ہے، جو تمام دنیا ایشیا اور امریکہ اور یورپ اور ہندوستان کیلئے ایک کھلا تھا انشان ہو سکتا ہے وہ یہی ڈوئی کے مرنے کا نشان ہے۔ کیونکہ اور نشان جو میری پیشگوئیوں پر ظاہر ہوئے ہیں کہ تو پنجاب اور ہندوستان تک ہی محدود تھے اور امریکہ اور یورپ کے کس شخص کو اُن کے ظہور کی خبر نہ تھی لیکن یہ نشان پنجاب سے بصورت پیشنگوئی ظاہر ہو کر امریکہ میں جاکر ایسے شخص کے حق میں پورا ہو ا جس کو امریکہ اور یورپ کا فرد فرود جانتا تھا اور اُس کے مرنے کے ساتھ ہی بذریعہ تاروں کے اُس ملک کے انگریزی اخبار وں کو خبر دی گئی چنانچہ پا تو تیر نے (حوالہ آباد سے نکالتا ہے، پر چار مارچ شاء میں اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے جولاہور سے نکلتا ہے) پر نچہ ۲ از مارچ شہداء میں اور انڈین ڈیلی ٹیلیگراف نے ۱۲ (جو لکھنو سے نکلتا ہے، پرچہ ہار مارچ کا اردو میں اس خبر کو شائع کیا ہے ہیں اس طرح ر قریبا تمام دنیا میں یہ شر شائع کی گئی۔ اورخود شخص اپنی دنیوی حیثیت کی رو سے ایسا تھا کہ عظیم الشان تو ابوں اور شاہزادوں کی طرح مانا جاتا تھا۔ چنانچہ رب نے جو امریکہ میں مسلمان ہو گیا ہے میری طرف اس کے بارہ میں ایک میٹھی کبھی تھی کہ ڈاکٹر ڈوئی اس ملک میں نہایت معزز انہ اور شاہزادوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔ اور باوجود اس عزت اور شہرت کے جو امریکہ اور یورپ میں اُس کو حاصل تھی۔ خُدا حاشیہ ۔ ڈرٹی اس پیشگوئی کے بعد اس قدر جلد مر گیا کہ ابھی پندرہ دن ہی اسکی اشاعت پر گزرے تجھے کہ روٹی کا خاتمہ ہوگی۔ نیں ایک طالب من کیلئے یا یک قطعی دلیل ہو کہ یہ پیش گوئی خاص ڈوئی کے بائے میں تھی کیونکراوی تای اس پیش گوئی میں لکھا ہے کہ مفتی عظیم کانشان تمام دنیا کیئے ہوگا اور روس کے یہ لکھا ہو کہ وہ تقریب لاہور ہونے والا ہے پس استیسی زیاد و متقریب اور کیا ہوگا کہ اس پیش گوئی کے بعد بد قسمت ڈوئی اپنی زندگی کے نہیں ون بھی پورے نہ کرسکا اور خاک میں جاہلا چین پادری صاحبان نے آتھم کے بارے میں شور مچایا تھا اب ان کو ڈوئی کی موت پر ضرور غور کرنی چاہئیے۔ میشان