فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 77

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 77 مکانات کا طواف کرنا یہ تو بالکل معمولی اور عام باتیں ہیں۔ غرض اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اس لئے قائم کیا کہ آنحضرت علیهم السلام کی نبوت اور عزت کو دوبارہ قائم کریں۔ ایک شخص جو کسی کا عاشق کہلاتا ہے اگر اس جیسے ہزاروں اور بھی ہوں تو اس کے عشق و محبت کی خصوصیت کیا ر ہے۔ تو پھر اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ کی محبت ن اور اور عشق حق میں میں فنا ہیں جیسا کہ یہ دعوی عليه وسلم جاتے کرتے ہیں تو یہ کیا بات ہے کہ ہزاروں قبروں اور مزاروں کی پرستش کرتے ہیں۔ مدینہ طیبہ تو - نہیں مگر اجمیر اور دوسری خانقاہوں پر ننگے سر اور ننگے پاؤں جاتے ہیں۔ پاکپٹن کی کھڑکی میں سے گزر جانا ہی نجات کیلئے کافی سمجھتے ہیں۔ کسی نے کوئی جھنڈا کھڑا کر رکھا ہے کسی نے کوئی اور صورت اختیار کر رکھی ہے ان لوگوں کے عرسوں اور میلوں کو دیکھ کر ایک سچے مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے کہ یہ انہوں نے کیا بنا رکھا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کو اسلام کی غیرت نہ ہوتی اور اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإِسلام خدا تعالیٰ کا کلام نہ ہوتا اور اس نے نہ فرمایا ہوتا إِنَّا نَحْنُ نَزَّ لَنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ تو بے شک آج وہ حالت اسلام کی ہو گئی تھی کہ اس کے مٹنے میں کوئی بھی شبہ نہیں ہو سکتا تھا مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی رحمت اور وعدہ حفاظت نے تقاضا کیا کہ رسول الله علیم اللہ کے بروز کو پھر نازل کرے اور اس زمانہ میں آپ کی نبوت کو نئے سرے سے زندہ کر کے دکھاوے چنانچہ اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور مجھے مامور اور مہدی بنا کر بھیجا۔ آج دو قسم کے شرک پیدا ہو گئے ہیں جنہوں نے اسلام کو نا بود کرنے کی بے حد سعی کی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل نہ ہوتا تو قریب تھا کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور پسندیدہ دین کا نام و نشان مٹ جاتا۔ مگر چونکہ اس نے وعدہ کیا ہوا تھا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ یہ وعدہ حفاظت چاہتا تھا کہ جب غارتگری کا موقع ہو تو وہ خبر لے ۔ چوکیدار کا کام ہے کہ وہ نقب دینے والوں کو پوچھتے ہیں اور دوسرے جرائم والوں کو دیکھ کر اپنے منصبی فرائض عمل میں لاتے ہیں اسی طرح پر آج چونکہ فتن جمع ہو گئے تھے اور اسلام کے قلعہ پر ہر قسم کے مخالف ہتھیار باندھ کر حملہ کرنے کو تیار ہو گئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ منہاج نبوت قائم کرے۔ یہ مواد اسلام کی مخالفت کے دراصل ایک عرصہ دراز سے پک رہے تھے اور آخراب پھوٹ نکلے جیسے ابتدا میں نطفہ ہوتا ہے اور پھر ایک عرصہ مقررہ کے بعد بچہ بن کر نکلتا ہے۔ اسی طرح پر اسلام کی مخالفت کے بچہ کا خروج ہو