فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 57

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 57 " پس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بات تھی تو میرا نور قلب کب اس کے خلاف کرنے کی رائے دے سکتا تھا۔اس لئے میں نے چاہا کہ یہ ہونا چاہئے تا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ کی پیشگوئی پوری ہو۔ممکن تھا کہ ایسے واقعات پیش نہ آتے لیکن جب ایسے امور پیش آگئے کہ جن میں مصروفیت از بس ضروری تھی اور توجہ ٹھیک طور پر چاہئے تھی تو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آ گیا اور وہ پوری ہوئی اس طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا۔والحمد للہ علی ذلک میرا ان نمازوں کو جمع کرنا جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں اللہ تعالیٰ کے اشارہ اور ایماء اور القاء سے تھا۔حالانکہ مخالف تو خواہ نخواہ بھی جمع کر لیتے ہیں مسجد میں بھی نہیں جاتے گھروں ہی میں جمع کر لیتے ہیں۔مولوی محمدحسین ہی کو قسم دے کر پوچھا جاوے کہ کیا اس نے کبھی کسی حاکم کے پاس جاتے وقت نماز جمع کی ہے یا نہیں؟ پھر خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نشان پر کیوں اعتراض کیا جاوے۔اگر تقویٰ اور خدا ترسی ہو تو اعتراض کرنے سے پہلے انسان اپنے گھر میں سوچ لے کہ کیا کہتا ہوں اور اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہوگا اور کس پر پڑے گا۔میں نے اس اجتہاد میں یہ بھی سوچا کہ ممکن تھا ہم دس دن ہی میں کام کو ختم کر دیتے جو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا موجب اور باعث ہوا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی پسند کیا کہ جب یہ لوگ اپنے نفس کی خاطر دو دو مہینے نکال لیتے ہیں تو پیشگوئی کی تکمیل کیلئے ایسی مدت چاہئے جس کی نظیر نہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اگر چہ وہ مصالح ابھی تک نہیں کھلے مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ضرور کھلیں گے۔دیکھو ضعف دماغ کی بیماری بدستور لاحق ہے اور بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ موت قریب ہو جاتی ہے۔تم میں سے اکثر نے میری ایسی حالت کو معائنہ کیا ہے اور پھر پیشاب کی بیماری عرصہ سے ہے۔گویا دوزرد چادر میں مجھے یہ پہنائی گئی ہیں ایک اوپر کے حصہ بدن میں اور ایک نیچے کے حصہ بدن میں۔ان بیماریوں کی وجہ سے وقت صافی بہت کم ملتا ہے مگر ان ایام میں خدا تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا کہ صحت بھی اچھی رہی اور کام ہوتا رہا۔مجھے تو افسوس اور تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جمع بین الصلاتین پر روتے ہیں حالانکہ مسیح کی قسمت میں بہت سے اجتماع رکھتے ہیں۔" الحکم نمبر 43 جلد 6 مؤرخہ 30 نومبر 1902 ، صفحہ 1 )