فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 51
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 51 شامل کر کے ساری عمر نماز قصر کرنے میں ہی گزار دے۔" ( البدر نمبر 13 جلد 8 مؤرخہ 28 / مارچ 1907 ء صفحہ 4 (۶۹) نماز میں ہاتھ باندھنے کے متعلق حضرت مسیح موعود کا ارشاد حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے استفسار پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو خط میں لکھا ہے:۔اگر چہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا اور دست بستہ کھڑا ہونا قانون فطرت کی رو سے بھی بندگی کیلئے مناسب ہی معلوم ہوتا ہے۔لیکن اگر ہاتھ چھوڑ کر بھی نماز پڑھتے ہیں تو نماز ہو جاتی ہے۔مالکی بھی شیعوں کی طرح ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔مسنون و ہی طریق ہے جو اوپر بیان ہوا۔اس قدر اختلاف بیعت کا کچھ ہارج نہیں اگر چہ احادیث صحیحہ میں اس کا نام ونشان بھی نہیں۔" فرمایا:- ) مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 154 مطبوعہ 22 اپریل 2008 ء ) (۷۰) نمازوں کا جمع کرنا دیکھو ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں۔نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں۔بسبب بیماری کے اور تفسیر سورہ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے ایسا ہو رہا ہے اور ان نمازوں کے جمع کرنے میں تُجْمَعُ لَهُ الصَّلوة کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہ ہوگا بلکہ کوئی اور ہوگا اور وہ پیش امام مسیح کی خاطر نمازیں جمع کرائے گا۔سواب ایسا ہی ہوتا ہے۔جس دن ہم زیادہ بیماری کی وجہ سے بالکل نہیں آسکتے اس دن نمازیں جمع نہیں ہوتیں اور اس حدیث کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم علیل یا اللہ نے پیار کے طریق سے یہ فرمایا ہے کہ اس کی خاطر ایسا ہوگا۔چاہئے کہ ہم رسول کریم علیل اللہ کی پیشگوئیوں کی عزت و تحریم کریں اور ان سے بے پروانہ وسلم