فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 50
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 50 دورہ میں رہتا ہو اس کو نمازوں میں قصر کرنی جائز ہے یا نہیں۔فرمایا:۔"جو شخص رات دن دورہ پر رہتا ہے اور اسی بات کا ملازم ہے وہ حالت دورہ میں مسافر نہیں کہلا سکتا۔اس کو پوری نماز پڑھنی چاہئے۔" رفع یدین کے متعلق فرمایا کہ:۔اخبار بدر نمبر 6 جلد 6 مؤرخہ 07 / فروری 1907 ، صفحہ 4 (۶۶) رفع یدین " اس میں چنداں حرج نہیں معلوم ہوتا خواہ کوئی کرے یا نہ کرے۔احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے اور وہابیوں اور سنیوں کے طریق عمل سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے، کیونکہ ایک تو رفع یدین کرتے ہیں اور ایک نہیں کرتے۔معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نے کسی وقت رفع یدین کیا اور بعد ازاں ترک کر دیا۔" ( اخبار بدر نمبر 11 جلد 2 مؤرخہ 3 را پریل 1903ء صفحہ 85) (۶۷) ایک شخص کا سوال پیش ہوا۔کہ کیا رفع ید بین ضروری ہے۔فرمایا کہ:۔"ضروری نہیں جو کرے تو جائز ہے۔" اخبار بد رنمبر 44 جلد 6 مؤرخہ 31 اکتوبر 1907 ء صفحہ 7) (۶۸) سفری تاجر کی نماز ایک صاحب کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ میں اور میرے بھائی ہمیشہ تجارت عطریات وغیرہ میں سفر کرتے رہتے ہیں۔کیا ہم نماز قصر کیا کریں۔فرمایا:۔سفر تو وہ ہے جو ضرورتا گاہے گاہے ایک شخص کو پیش آوے۔نہ یہ کہ اس کا پیشہ ہی یہ ہو کہ آج یہاں کل وہاں اپنی تجارت کرتا پھرے۔یہ تقویٰ کے خلاف ہے کہ ایسا آدمی آپ کو مسافروں میں