فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 49
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 49 فرمایا:- (۶۴) حکام کا دورہ سفر نہیں " حکام کا دورہ سفر نہیں ہو سکتا۔وہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کوئی وجود نہیں۔اگر دوروں کی وجہ سے انسان قصر کرنے لگے تو پھر یہ دائی قصر ہوگا جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں۔سعدی نے بھی کہا ہے۔منعم بکوه و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمه زدوخوابگاه ساخت" الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903 ء صفحہ 10 ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ مجھے دس پندرہ کوس تک اِدھر اُدھر جانا پڑتا ہے۔میں کس کو سفر سمجھوں اور نمازوں میں قصر کے متعلق کس بات پر عمل کروں میں کتابوں کے مسائل نہیں پوچھتا ہوں۔حضرت امام صادق کا حکم دریافت کرتا ہوں۔حضرت اقدس نے فرمایا:۔" میرا مذ ہب یہ ہے کہ انسان بہت وقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو اس میں قصر و سفر کے مسائل پر عمل کرے إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گھڑی اُٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔شریعت کی بنا دقت پر نہیں ہے جس کو تم عرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے اور جیسا کہ خدا کے فرائض پر عمل کیا جاتا ہے ویسا ہی اس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہئے فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے۔" الحکم نمبر 6 جلد 5 مؤرخہ 17 فروری 1901 ، صفحہ 13 ) (۶۵) دائمی دورہ کرنے والے کی نماز ایک شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو شخص بسبب ملازمت کے ہمیشہ