فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 48

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 48 سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔یہ ہماری سیر سفر نہیں ہے۔ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھے پوری ہی نماز پڑھنی پڑے گی۔" الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903 ، صفحہ 10 (۶۳) سفر میں قصر سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی تین کوس سفر پر جائے تو کیا نمازوں کو قصر کرے؟ فرمایا:۔"ہاں ! مگر دیکھو اپنی نیت کو خوب دیکھ لو۔ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کا روبار یا سفر کیلئے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اس کام کیلئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلاتا ہو۔دیکھو یوں تو ہم ہر روز سیر کیلئے دو دو میل نکل جاتے ہیں مگر یہ سفر نہیں۔ایسے موقعہ پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہئے کہ اگر وہ بغیر کسی خلجان کے فتوی دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرے۔اسْتَفْتِ قَلْبَک (اپنے دل سے فتویٰ لو) پر عمل چاہئے۔ہزار فتوئی ہو پھر بھی مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شے ہے۔" عرض کیا گیا کہ انسانوں کے حالات مختلف ہیں۔بعض نو دس کوس کو بھی سفر نہیں سمجھتے۔بعض کیلئے تین چارکوس بھی سفر ہے۔فرمایا:۔" شریعت نے ان باتوں کا اعتبار نہیں کیا۔صحابہ کرام نے تین کوس کو بھی سفر سمجھا ہے۔" عرض کیا گیا حضور بٹالہ جاتے ہیں تو قصر فرماتے ہیں۔فرمایا:۔"ہاں! کیونکہ وہ سفر ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبیب یا حاکم بطور دورہ کئی گاؤں میں پھرتا رہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اسے سفر نہیں کہہ سکتا۔" (خلاصہ تقریر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور کے نزدیک تین کوس بھی سفر ہے اور اس میں قصر جائز۔لیکن اگر کوئی بطور سیر یا معمولی روز مرہ کے کاروبار کیلئے اتنی دور یا اس سے کچھ زیادہ نکل جائے تو وہ سفر نہیں۔بدر ) اخبار بدر نمبر 3 جلد 7 مؤرخہ 23 جنوری 1908ء صفحه (2)