فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 47

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 47 سوال:۔بہترین وظیفہ کیا ہے؟ (۶۱) بہترین وظیفہ جواب:۔" نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے۔استغفار ہے اور درود شریف۔تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت علی اللہ کواگر ذرہ بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کیلئے کھڑے ہو جاتے اور اس لئے فرمایا ہے الا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ اطمینان سکینت قلب کیلئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔لوگوں نے قسم قسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت علی اللہ کی شریعت کے مقابلہ میں بنادی ہوئی ہے۔مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ان وظائف اور اور اد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اور اد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو۔اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے اس لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلواةَ لِذِكْرِى " الحکم نمبر 20 جلد 7 مؤرخہ 31 مئی 1903 ، صفحہ 9) (۶۲) قصر نماز وحد سفر نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں وہ قصر کریں یا نہ ؟ فرمایا:۔"جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے۔میری دانست میں جس