فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page v
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام و اوروں کے کلام کو میسر نہیں ہو سکتا۔حضرت صاحب صرف مفتی کی حیثیت سے نہیں بلکہ حکم و عدل اور مامور کی حیثیت سے مسئلہ کی کنہ اور حقیقت کو معقولی طور پر پوری بیان فرما کر سائل کو اس امر سے بکلی مستغنی فرما دیتے ہیں کہ وہ یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں فرمایا بلکہ وہ خود معقولی طور پر ہر میدان میں ان مسائل کو نہ صرف بیان ہی کر سکتا ہے بلکہ حضرت صاحب کے طرز بیان سے تمام مسائل کے حل کرنے کیلئے ایسے آسان ترین اصول اور قواعد سائل کے ذہن نشین ہو جاتے ہیں کہ ان فتاویٰ کو پڑھ کر اور سمجھ کر پھر کسی مسئلہ کیلئے کسی مفتی سے زیادہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔میں علی وجہ البصیرت یہ کہہ سکتا ہوں کہ حضرت صاحب کے فتاویٰ کے مطالعہ سے شریعت اسلام کا مغز ، حقیقت اور عظمت اس قدر دل میں گڑ جاتی ہے کہ دل سے بے اختیار بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام پر درود شریف نکلتا ہے کہ اس محسن اعظم کے ذریعہ ایسی پاک تعلیم ہم کو نصیب ہوئی۔اگر کوئی شخص ضد اور تعصب سے بالکل آنکھیں نہ بند کرے تو صرف اسی فتاویٰ کے مطالعہ سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایمان اور عرفان کا مرتبہ دیکھ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میری یہ نا چیز محنت نافع الناس ثابت ہوکر میرے لئے موجب رضائے الہی ہو۔آمین خاکسار فخر الدین مالتانی 1935-9-6 نوٹ :۔جن فتووں کے اصل حوالہ جات میسر نہیں آسکے ان کے آگے پرانے فتاوی احمد یہ مؤلفہ چنگوی صاحب کے صفحات کا حوالہ دینے پر اکتفا کیا گیا ہے۔(فخر ملتانی)