فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 30
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اصول یہی ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو۔" فرمایا:۔ 30 الحکم نمبر 33 جلد 2 مؤرخہ 29 اکتوبر 1898ء صفحه (4) (۳۱) نماز انسان کا تعویذ ہے " نماز انسان کا تعویذ ہے پانچ وقت دعا کا موقعہ ملتا ہے کوئی دعا تو سنی جائے گی۔ اس لئے نماز کو بہت سنوار کر پڑھنا چاہئے اور مجھے بھی بہت عزیز ہے۔" الحکم نمبر 6 جلد 5 مورخہ 17 فروری 1901ء صفحه (7) (۳۲) نماز پڑھتے ہوئے کوئی کام کرنا ایک دوست ڈاکٹر محمد علی خانصاحب نے افریقہ سے استفسار کیا کہ اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر آ جاوے اور دروازہ کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اسے کیا کرنا چاہئے ۔ اسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہو کر ہندوستان واپس کیا گیا ہے۔ جواب: - حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ " ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا ( یہ ہسپتال کا واقعہ ہے اس لئے فرمایا) کیونکہ اگر اس کے التوا سے کسی آدمی کی جان چلی جاوے تو یہ سخت معصیت ہوگی ۔ تو یہ ہوگی۔ احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ ایسے ہی اگر لڑکے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہو ضرر پہنچتا ہو تو لڑکے کو بچانا اور جانور کو مار دینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی۔ بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑا کھل گیا ہو تو اسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔" نوٹ :۔ یا د رکھنا چاہئے کہ اشد ضرورتوں کیلئے نازک مواقع پر یہ حکم ہے یہ نہیں کہ ہر ایک قسم کی رفع حاجت کو مقدم رکھ کر نماز کی پرواہ نہ کی جاوے اور اسے بازیچہ طفلاں بنا دیا جاوے۔ ورنہ نماز میں