فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 28
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 28 کیا گیا۔فرمایا:۔"اگر وہ منافقانہ رنگ میں ایسا نہیں کرتے جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ (با مسلمان الله الله با برہمن رام رام ) تو وہ اشتہار دے دیں کہ ہم نہ مکذب ہیں نہ مکفر ( بلکہ بزرگ نیک ولی اللہ سمجھتے ہیں ) اور مکفرین کو اس لئے کہ وہ ایک مومن کو کافر کہتے ہیں۔کافر جانتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو کہ وہ سچ کہتے ہیں ورنہ ہم ان کا کیسے اعتبار کر سکتے ہیں اور کیونکر ان کے پیچھے نماز کا حکم دے سکتے ہیں۔گر حفظ مراتب نه کنی زندیقی نرمی کے موقع پر نرمی اور سختی کے موقع پر سختی کرنی چاہئے۔فرعون میں ایک قسم کا رشد تھا اور اسی رشد کا نتیجہ تھا کہ اس کے منہ سے وہ کلمہ نکلا جو صد ہاڈوبنے والے کفار کے منہ سے نہ نکلا۔یعنی آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِی۔اس کے ساتھ نرمی کا حکم ہوا قُوْلَا لَهُ قَوْلًا لَینا۔اور دوسری طرف نبی کریم کو فرما ياوَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ۔معلوم ہوتا ہے ان لوگوں میں بالکل رشد نہ تھا۔پس ایسے معترضین کے ساتھ یا صاف صاف بات کرنی چاہئے تا کہ ان کے دل میں جو گند و خبث پوشیدہ ہے نکل آئے اور ننگ جماعت نہ ہوں۔" فرمایا:- اخبار بدر نمبر 16 جلد 7 مؤرخہ 23 را پریل 1908 ء صفحہ 4 (۲۸) تعداد رکعات فریضہ پنجگانہ کوئی مسلمان اس بات میں اختلاف نہیں رکھتا کہ فریضہ صبح کی دورکعت اور مغرب کی تین اور ظہر اور عصر اور عشاء کی چار چار اور کسی کو اس بات میں اختلاف نہیں کہ ہر یک نماز میں بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو قیام اور قعود اور سجود اور رکوع ضروری ہیں اور سلام کے ساتھ نماز سے باہر آنا چاہئیے۔" الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 85 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۲۹) سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت فرمایا:۔