فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 22

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 22 22 فکر کرتا رہا مجھے یہ آیت می وَاَقِيْمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الروم :32) - " (الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 40 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۲۲) غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھو کسی نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کے مرید نہیں ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپ نے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے۔حضرت نے فرمایا:۔" جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے رڈ کر دیا ہے اور اس قدر نشانوں کی پروانہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں اس سے لا پروا پڑے ہیں ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے۔اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔قدیم سے بزرگان دین کا یہی مذہب ہے کہ جو شخص حق کی مخالفت کرتا ہے رفتہ رفتہ اس کا سلب ایمان ہو جاتا ہے۔جو پیغمبر خدا علی ملالہ کو نہ مانے وہ کافر ہے مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جائے گا انجام ایک ہی ہے۔پہلے تخالف ہوتا ہے پھر اجنبیت پھر عداوت پھر غلو اور آخر کا رسلب ہو جاتا ہے۔" فرمایا:- الحکم نمبر 10 جلد 5 مؤرخہ 17 / مارچ 1901 ، صفحہ 8 یہ معمولی اور چھوٹی سی بات نہ سمجھیں بلکہ یہ ایمان کا معاملہ ہے۔جنت اور دوزخ کا سوال ہے۔میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ کا انکار ہے۔کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرا لیتا ہے جب کہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجو د وعدہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَوَ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا۔جب کہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان