فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 19

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 19 اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکین آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔وہ زمانہ جس میں نمازیں سنوار کر پڑھی جاتی تھیں غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں۔درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کوحل اور آسان کر دیا ہوا ہوتا ہے۔نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گزارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔نمازی کا یہی حال ہے۔خدا کے آگے سر بیجھ درہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے پھر آخر کچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دے کر تسلی دیتا ہے۔بھلا یہ بحر حقیقی نماز کے ممکن ہے ہر گز نہیں۔اور پھر جن کا خدا ہی ایسا نہیں وہ بھی گئے گزرے ہیں ان کا کیا دین اور کیا ایمان ہے وہ کس امید پر اپنی اوقات ضائع کرتے ہیں۔" الحکم نمبر 12 جلد 7 مؤرخہ 31 / مارچ 1903 صفحہ 8 ) (۱۹) فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان نوافل ایک شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ نماز فجر کی اذان کے بعد دوگانہ فرض سے پہلے اگر کوئی شخص نوافل ادا کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔"نماز فجر کی اذان کے بعد سورج نکلنے تک دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض کے سوا اور کوئی نماز البدر نمبر 6 جلد 6 مؤرخہ 7 فروری 1907 ء صفحہ 4