فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 281
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 281 وجی کو مانتے ہیں۔میرا آنا اللہ اور رسول کے وعدے کے مطابق ہے۔جو شخص خدا اور رسول کی ایک بات مانتا ہے اور دوسری نہیں مانتا وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں خدا پر ایمان لاتا ہوں۔یہ تو وہ بات ہے جو قرآن شریف میں تذکرہ ہے کہ وہ لوگ بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر ایمان نہیں لاتے اور نہ در اصل ایمان نہیں۔ایک خدا اور اس کے رسول کا موعود اپنے وقت پر آیا۔صدی کے سر پر آیا۔نشانات لایا۔عین ضرورت کے وقت آیا۔اپنے دعوی کے دلائل صحیح اور قوی رکھتا ہے ایسے شخص کا انکار کیا ایک مومن کا کام ہے۔یہود بھی موحد کہلاتے تھے اب تک ان کا دعوی ہے کہ ہم تو حید پر قائم ہیں۔نماز پڑھتے روزہ رکھتے مگر آنحضرت علیل یا اللہ کو نہ مانتے اسی سبب کا فر ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کے ایک حکم وسلم فرمودہ رسول کی ایک بات کا بھی جو شخص انکار کرتا ہے اور اس کے مخالف ضد کرتا ہے وہ کا فر ہوتا ہے۔اور یہ بھی ان لوگوں کی غلطی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نماز روزہ ادا کرتے ہیں اور تمام اعمال حسنہ بجالاتے ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے۔یہ نہیں جانتے کہ اعمال حسنہ کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتی ہے۔" اخبار بدر نمبر 36 جلد 1 مؤرخہ 17 نومبر 1905ء صفحہ 3) الحمد لله على ذالک و تمت بالخیر