فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 280

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 280 آپ اس کی تردید میں فرماتا ہے کہ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِل - برادریوں کے درمیان آپس میں دشمنیاں ہوا کرتی ہیں مگر شادی مرگ کے وقت وہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔اخیار میں خونی دشمنی کبھی نہیں ہوتی۔" سوال ہوا کہ جو لوگ آپ کو کافر نہیں کہتے مگر آپ کے مرید بھی نہیں ہیں ان کا کیا حال۔حضرت صاحب نے فرمایا:۔وہ لوگ راہ و رسم اور تعلقات کس کے ساتھ رکھتے ہیں۔آخر ایک گروہ میں ان کو ملنا پڑے گا جس کے ساتھ کوئی اپنا تعلق رکھتا ہے اسی میں سے وہ ہوتا ہے۔" سوال ہوا کہ جو لوگ آپ کو نہیں مانتے وہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے نیچے ہیں یا کہ نہیں ؟ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ:۔انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں تو میں اپنی جماعت کو بھی شامل نہیں کر سکتا جب تک کہ خدا کسی کو نہ کرے۔جو کلمہ گو سچے دل سے قرآن پر عمل کرنے کیلئے طیار ہو بشر طیکہ سمجھایا جاوے وہ اپنا اجر پائے گا۔جس قدر کوئی مانے گا اسی قدر ثواب پائے گا۔جتنا انکار کرے گا اتنی ہی تکلیف اٹھائے گا۔میں قسما کہتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جو ہمیں کا فرنہیں کہتے ان کے دلوں کا خدا مالک ہے۔مگر حضرت مسیح کا خالق اور جی ماننا بھی تو ایک شرک ہے۔اگر وہ کہیں کہ خدا کے اذن سے کرتا تھا تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اذن نبی کریم علیہ کو کیوں نہ دیا گیا۔جو خدا کے ولی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے خدا اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جس کے ساتھ خدا جنگ کرے اس کا ایمان کہاں رہا۔" الحکم نمبر 10 جلد 5 مؤرخہ 17 / مارچ 1901 صفحہ 8 (۳۸۰) مسیح موعود کو ماننے کی ضرورت حضرت کی خدمت میں آج پھر ایک سوال پیش ہوا کہ جب ہم لوگ نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں اور شریعت کے دیگر امور کی پیروی کرتے ہیں تو صرف آپ کو نہ ماننے کے سبب کیا حرج ہو سکتا ہے۔حضرت نے فرمایا:۔" میں نے اس بات کا جواب کئی بار دیا ہے۔ہم قال اللہ اور قال الرسول کو مانتے ہیں۔پھر خدا کی