فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 267
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 267 فرمایا:۔ (۳۵۲) پانچوقتی اذان " واضح ہو کہ قرآن کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا جیسا کہ واحد لاشریک ہے ایسا ہی اپنی محبت کے رو سے بھی اس کو واحد لا شریک ٹھہراؤ۔ جیسا کہ کلمہ لا إِلَهَ إِلَّا الله جو ہر وقت مسلمانوں کو ورد زبان رہتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیونکہ الہ۔ ولاہ سے مشتق ہے اور اس کے معنی ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جائے۔ یہ کلمہ نہ تو رات نے سکھلایا اور نہ انجیل نے۔ صرف قرآن نے سکھلایا اور یہ کلمہ اسلام سے ایسا تعلق رکھتا ہے کہ گویا اسلام کا تمغہ ہے۔ یہی کلمہ پانچ وقت مساجد کے مناروں میں بلند آواز سے کہا جاتا ہے جس سے عیسائی اور ہند و سب چڑتے ہیں ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو محبت کے ساتھ یاد کرنا ان کے نزدیک گناہ ہے۔ یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ صبح ہوتے ہی اسلامی موذن بلند آواز سے کہتا ہے کہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی ہمارا پیارا اور محبوب اور معبود بجز اللہ کے نہیں۔ پھر دو پہر کے بعد یہی آواز اسلامی مساجد سے آتی ہے۔ اللہ پھر عصر کو بھی یہی آواز ، پھر مغرب کو بھی یہی آواز اور پھر عشاء کو بھی یہی آواز گونجتی ہوئی آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے۔ کیا دنیا میں کسی اور مذہب میں بھی یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے؟" ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 367,366 مطبوعہ نومبر 1984ء) فرمایا:۔ (۳۵۳) چوغہ یا کوٹ اُتار کر وضو کرنا " میں نے ارادہ کیا کہ عصر کی نماز یہیں پڑھ لوں اس لئے میں نے چوغہ اُتار کر وضو کرنا چاہا اور چوغہ وزیر صاحب کے ایک ملازم کو پکڑا دیا اور پھر چوغہ پہن کر نماز پڑھ لی۔" (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 256 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۳۵۴) تیم فرمایا:۔