فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 255
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 255 (۳۳۱) خودکشی گناہ ہے ایک شخص نے اپنی مصائب اور تکالیف کو نا قابل برداشت بیان کرتے ہوئے ایک لمبا خط حضرت صاحب کی خدمت میں لکھ کر یہ ظاہر کیا کہ میں بہ سبب ان مصائب کے ایسا تنگ ہوں کہ خودکشی کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ حضرت نے جواب میں اس کو لکھا کہ :۔ "خودکشی کرنا گناہ ہے اور اس میں انسان کے واسطے کچھ فائدہ اور آرام نہیں ہے کیونکہ مرنے سے انسان کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا بلکہ ایک نئے طرز کی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اس دنیا میں تکالیف میں ہے تو خدا تعالیٰ کی نارضا مندیوں کو ساتھ لے کر اگر دوسری طرف چلا جائے گا تو وہاں کے مصائب اور تلخیاں اس جگہ کی حرارت سے بھی بڑھ کر ہیں۔ پس ایسی خودکشی اس کو کیا فائدہ دے گی ۔ انسان کو چاہئے کہ صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا مانگنے میں مصروف رہے اور اپنی حالت کی اصلاح میں کوشش کرے اللہ تعالیٰ جلد رحم کر کے تمام بلاؤں اور آفتوں سے اس کو نجات دے گا۔ اخبار بد نمبر 30 جلد 2 مؤرخہ 26 جولائی 1906 ء صفحہ (9) (۳۳۲) محرم میں تابوت نکالنا سوال پیش ہوا کہ محرم پر جو لوگ تابوت بناتے ہیں اور محفل کرتے ہیں اس میں شامل ہونا کیسا (ہے)؟ فرمایا کہ:۔ " گناہ ہے۔" اخبار بدر نمبر 11 جلد 6 مؤرخہ 14 مارچ 1907ء صفحہ (5) (۳۳۳) طاعونی مقامات میں جانے سے ممانعت قادیان کے کسی شخص کا ذکر ہوا کہ فلاں جگہ طاعون ہے اور وہ وہاں بار بار جاتا رہا۔ آخر وہ طاعون میں گرفتار ہو کر مر گیا ۔ حضرت اقدس نے فرمایا:۔ " جب کہ ایک جگہ آگ برستی ہے تو اس جگہ جانے کی کیا ضرورت ہے۔" الحکم نمبر 9 جلد 11 مورخہ 17 مارچ 1907ء صفحہ 11)