فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 254

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 254 (۳۲۸) جنگ میں قتل کرنا سوال :۔ جولوگ لڑائیوں میں جاتے ہیں اور وہاں قتل کرتے ہیں کیا و قتل ان کا گناہ ہے یا نہیں؟ جواب: " عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّی ۔ میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے اچھا کیا یا بُرا کیا۔" الحکم نمبر 40 جلد 9 مورخہ 17 نومبر 1905ء صفحہ 10) (۳۲۹) بد خیالات دل کا مواخذہ سوال: اگر کوئی چوری یا زنا کے ارادے سے جاوے مگر نہ کرے تو کیا گناہ ہوگا ؟ جواب:۔ " جو خیالات وسوسہ کے رنگ میں دل میں گزرتے ہیں اور ان پر کوئی عزم اور ارادہ انسان نہیں کرتا ان پر مواخذہ نہیں ہے لیکن جب کوئی خیال بد دل میں گزرے اور انسان اس پر مصم ارادہ کرلے تو اس پر مواخذہ ہوتا ہے اور وہ گناہ ہے۔ جیسے ایک اچکا دل میں خیال کرے کہ فلاں بچہ کو قتل کر کے اس کا زیور اتار لوں گا تو گو قانونی جرم نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مجرم ہے اور سزا پائے گا۔ یا در کھو دل کا ایک فعل ہوتا ہے مگر جب تک اس پر مصم ارادہ اور عزیمت نہ کرے اس کا کوئی اثر نہیں۔" الحکم نمبر 40 جلد 9 مورخہ 17 نومبر 1905 ء صفحہ (10) (۳۳۰) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد مجدد کی ضرورت ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا آپ کے بعد بھی مجدد آئے گا ؟ اس پر فرمایا :۔ " اس میں کیا حرج ہے کہ میرے بعد بھی کوئی مجدد آ جاوے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت ختم ہو چکی تھی اس لئے مسیح علیہ السلام پر آپ کے خلفاء کا خاتمہ ہو گیا۔ لیکن آنحضرت علیم کا سلسلہ الله السلام قیامت تک ہے اس لئے اس میں قیامت تک ہی مجدد دین آتے رہیں گے۔ اگر قیامت نے فنا کرنے سے چھوڑا تو کچھ شک نہیں کہ کوئی اور بھی آجائے گا ۔ ہم ہرگز اس سے انکار نہیں کرتے کہ صالح اور ابرار لوگ آتے رہیں گے اور پھر بغتہ قیامت آجائے گی۔" الحکم نمبر 40 جلد 9 مورخہ 17 نومبر 1905ء صفحہ 8