فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 252
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 252 مستحسن یہی بات ہے جو شریعت اسلام نے مقرر کی ہے کہ مونچھیں کٹائی جاویں اور داڑھی بڑھائی جاوے۔" ( اخبار بدر نمبر 44 جلد 6 مؤرخہ 31 اکتوبر 1907 ء صفحہ (07) (۳۲۴) ہندوؤں والی دھوتی باندھنی اور بودی رکھنی ولباس نبوی ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوؤں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ " تشبه بالكفار تو کسی بھی رنگ میں جائز نہیں ۔ اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکا سا لگاتے ہیں کوئی وہ بھی لگا لے یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو ر کھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۔ مسلمانوں کو اپنے ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہئے ۔ ہمارے آنحضرت نہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سراویل بھی خرید نا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنھی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔ علاوہ ازیں ٹوپی ۔ کرتہ چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں ۔ ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہئے کہ ان میں ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔ جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتاکس چیز سے ہے اور وہ کونسی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے کیا کفار کی رسوم و عادت کی؟ اب اسے ڈر چاہئے تو خدا کا اور اتباع چاہئے تو محمد رسول اللہ کی ۔ کسی ادنی سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہئے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔ ہمیں تو اللہ تعالی نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھائیں۔ سیالکوٹ سے ایک دو بار انگریزی جوتا آیا ہمیں اس کا پہنا ہی مشکل ہوتا تھا کبھی ادھر کا اُدھر اور کبھی بائیں کا دائیں ۔ آخر تنگ آ کر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا آخر میں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔" الحکم نمبر 14 جلد 7 مورخہ 17 را پریل 1903ء صفحہ 8