فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 250
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 250 جاوے تو وہ ہرگز نہیں ٹل سکتی۔" ( الحکم نمبر 25, 26 جلد 8 مؤرخہ 31 جولائی و 10 راگست 1904 ، صفحہ 10) (۳۲۰) مشاعره ایک جگہ بعض شاعرانہ مذاق کے دوست ایک با قاعدہ انجمن مشاعرہ قائم کرنا چاہتے تھے۔اس کے متعلق حضرت سے دریافت کیا گیا۔فرمایا:۔" تضیع اوقات ہے کہ ایسی انجمنیں قائم کی جائیں اور لوگ شعر بنانے میں مستغرق رہیں۔ہاں یہ جائز ہے کہ کوئی شخص ذوق کے وقت کوئی نظم لکھے اور اتفاقی طور پر کسی مجلس میں سنائے یا کسی اخبار میں چھپوائے۔ہم نے اپنی کتابوں میں کئی نظمیں لکھی ہیں مگر اتنی عمر ہوئی آج تک کبھی کسی مشاعرہ میں شامل نہیں ہوئے۔میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کوئی شاعری میں اپنا نام پیدا کرنا چاہے۔ہاں اگر حال کے طور پر نہ صرف قال کے طور پر اور جوش روحانی سے اور نہ خواہش نفسانی سے کبھی کوئی نظم جو مخلوق کیلئے مفید ہو سکتی ہو لکھی جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔مگر یہی پیشہ کر لینا ایک منحوس کام ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 26 جلد 6 مؤرخہ 27 جون 1907 ء صفحہ 7) (۳۲۱) سانڈ رکھنا ایک شخص نے سوال کیا کہ خالصة لوجه الله نسل افزائی کی نیست اگر کوئی سانڈ چھوڑے تو کیا یہ جائز ہے۔فرمایا:۔"أَصْلُ الْأَشْيَاءِ إِبَاحَةُ اشیاء کا اصل تو اباحت ہی ہے۔جنہیں خدا تعالیٰ نے حرام فرما یاوہ حرام ہیں باقی حلال۔بہت سی باتیں نیت پر موقوف ہیں میرے نزدیک تو یہ جائز بلکہ ثواب کا کام ہے۔" عرض کیا گیا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔فرمایا:۔" میں نے جواب دیتے وقت اسے زیر نظر رکھ لیا ہے۔وہ تو دیوتوں کے نام پر دیتے یہاں خاص خدا تعالیٰ کے نام پر ہے نسل افزائی ایک ضروری بات ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں انعام وغیرہ کو اپنی نعمتوں سے فرمایا ہے۔سو اس نعمت کا قدر کرنا چاہئے اور قدر میں نسل کا بڑھانا بھی ہے۔پس اگر