فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 248
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 248 بھی اس کے پیچھے عمر کھونے والا کبھی متقی اور پر ہیز گار نہیں ہو سکتا۔ جس کو رات دن دنیا کی محبت لگی رہے گی وہ اپنے پاک اور پیارے خدا کی محبت کو اپنے دل میں کس طرح جگہ دے گا ۔ " فرمایا:۔ الحکم نمبر 20 جلد 12 مؤرخہ 18 مارچ 1908ء صفحہ 8,7) (۳۱۸) درازی عمر کا نسخہ " انسان اگر چاہتا ہے کہ اپنی عمر بڑھائے اور لمبی عمر پائے تو اس کو چاہئیے کہ جہاں تک ہو سکے خالص دین کے واسطے اپنی عمر کو وقف کرے۔ یہ یاد رکھے کہ اللہ تعالی سے دھوکا نہیں چلتا ۔ جو اللہ تعالیٰ کو غا دیتا ہے وہ یادرکھے کہ اپنے نفس کو دغا دیتا ہے وہ اس کی پاداش میں ہلاک ہو جاوے گا۔۔ پس عمر بڑھانے کا اس سے بہتر کوئی نسخہ نہیں ہے کہ انسان خلوص اور وفاداری کے ساتھ اعلائے کلمۃ الاسلام میں مصروف ہو جائے اور خدمت دین میں لگ جاوے اور آج کل یہ نسخہ بہت ہی کارگر ہے کیونکہ دین کو آج ایسے مخلص خادموں کی ضرورت ہے اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر عمر کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے یونہی چلی جاتی ہے۔ ایک صحابی کا ذکر ہے کہ اس کے ایک تیر لگا اور اس سے خون جاری ہو گیا۔ اس نے دعا کی کہ اے اللہ عمر کی تو مجھے کوئی غرض نہیں ہے البتہ میں یہود کا انتقام دیکھنا چاہتا تھا جنہوں نے اس قدر اذیتیں اور تکلیفیں دی ہیں ۔ لکھا ہے کہ اسی وقت اس کا خون بند ہو گیا جب تک کہ وہ یہود ہلاک نہ ہوئے اور جب وہ ہلاک ہو گئے تو خون جاری ہو گیا اور اس کا انتقال ہو گیا ۔ حقیقت میں سب امراض اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں کوئی مرض اس کے حکم کے بغیر پیش دستی نہیں کر سکتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرے یہی اقبال کی راہ ہے۔ مگر افسوس ہے جن راہوں سے اقبال آتا ہے ان کو انسان بدظنی کی نظر سے دیکھتا ہے اور نحوست کی راہوں کو پسند کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر گر جاتا ہے۔" " الحکم نمبر 6 جلد 8 مورخہ 17 فروری 1904ء صفحه 6