فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 240
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 240 اس جانور کا عربی میں مشہور تھا جو خنزیر کے نام کے ہم معنی ہے۔پھر اب تک یادگار باقی رہ گیا۔ہاں یہ ممکن ہے کہ شاستری میں اس کے قریب قریب یہی لفظ متغیر ہو کر اور کچھ بن گیا ہو۔مگر صحیح لفظ یہی ہے کیونکہ اپنی وجہ تسمیہ ساتھ رکھتا ہے جس پر لفظ خنزیر گواہ ناطق ہے اور یہ معنے جو اس لفظ کے ہیں یعنی بہت فاسد اس کی تشریح کی حاجت نہیں۔اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور اور نیز بے غیرت اور دیوث ہے۔اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانون قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن اور روح پر بھی پلید ہی ہو کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہوتا ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسے بد کا اثر بھی بدہی پڑے گا۔جیسا کہ یونانی طبیبوں نے اسلام سے پہلے ہی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس جانور کا گوشت بالخاصیت حیا کی قوت کو کم کرتا ہے اور دیوٹی کو بڑھاتا ہے اور مردار کا کھانا بھی اسی لئے اس شریعت میں منع ہے کہ مردار بھی کھانے والے کو اپنے رنگ میں لاتا ہے اور نیز ظاہری صحت کیلئے بھی مضر ہے۔اور جن جانوروں کا خون اندر ہی رہتا ہے جیسے گلا گھونٹا ہو یا لاٹھی سے مارا ہوا یہ تمام جانور در حقیقت مردار کے حکم میں ہی ہیں۔کیا مردہ کا خون اندر رہنے سے اپنی حالت پر رہ سکتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ بوجہ مرطوب ہونے کے بہت جلد گندہ ہوگا اور اپنی عفونت سے تمام گوشت کو خراب کرے گا اور نیز خون کے کیڑے جو "" حال کی تحقیقات سے بھی ثابت ہوئے ہیں مرکر ایک زہرناک عفونت بدن میں پھیلا دیں گے۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی جلد نمبر 10 صفحہ 339,338 مطبوعہ نومبر 1984 ء ) شہد کے تذکرہ پر آپ نے فرمایا کہ:۔(۳۰۸) شهد دوسری تمام شیرینیوں کو تو اطباء نے عفونت پیدا کرنے والی لکھا ہے مگر یہ ان میں سے نہیں ہے۔آنب وغیرہ اور دیگر پھل اس میں رکھ کر تجربہ کئے گئے ہیں کہ وہ بالکل خراب نہیں ہوتے سالہا سال ویسے ہی پڑے رہتے ہیں۔" فرمایا کہ:۔" ایک دفعہ میں نے انڈے پر تجربہ کیا تو تعجب ہوا کہ اس کی زردی تو ویسی ہی رہی مگر سفیدی انجماد