فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 11

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 11 بات میں بھی کچھ شک نہیں کہ آج کل جو دو گروہ اس ملک میں پائے جاتے ہیں۔جن میں سے ایک گروہ اہلحدیث یا موحد کہلاتے ہیں اور دوسرے گروہ اکثر حفی یا شافعی وغیرہ ہیں اور دونوں گروہ اپنے تئیں اہل سنت سے موسوم کرتے ہیں ان میں سے ایک گروہ نے تفریط کی راہ لی اور دوسرے گروہ نے افراط کی۔اور اصل منشائے نبوی کو یہ دونوں گروہ اس افراط اور تفریط اور غلو کی وجہ سے چھوڑ بیٹھے ہیں۔تفریط کا طریق موحدین نے اختیار کیا ہے۔اس گروہ نے ہر ایک طبقہ کے مسلمان اور ہر ایک مرتبہ کی عقل کو اس قدر آزادی دے دی ہے جس سے دین کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے اور در حقیقت اسی آزادی سے فرقہ نیچر یہ بھی پیدا ہو گیا ہے جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت سید نا نبی علیہ السلام اور خدا کے پاک کلام کی باقی نہیں رہی۔جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔اور ایسا ہی حدیث نبوی میں بھی ہے کہ تم دیکھ لیا کرو کہ اپنے دین کو کس سے لیتے ہو۔پس یہ کیونکر ہو سکے کہ ہر ایک شخص جس کو ایک کامل حصہ تقویٰ کا بھی حاصل نہیں اور نہ وہ بصیرت اس کو عطا کی گئی ہے جو پاک لوگوں کو دی جاتی ہے۔وہ جس طرح چاہے قرآن کے معنی کرے اور جس طرح چاہے حدیث کے معنی کرے بلکہ بلاشبہ وہ ضَلُّوا وَأَضَلُّوا کا مصداق ہوگا۔اگر یہی خدا تعالیٰ کا بھی منشا تھا کہ تمام لوگوں کو اس قدر آزادی دی جائے تو پھر انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے کی کچھ بھی ضرورت نہ تھی بلکہ خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے صرف آسمان سے بغیر توسط کسی انسان کے قرآن شریف نازل ہوسکتا تھا۔پس جبکہ یہ سلسلہ ہدایت الہی کا انسانی توسط سے ہی شروع ہوا ہے اور توسط ان لوگوں کا جو خدا سے ہدایت پاتے ہیں۔پس اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہی طریق قیامت تک جاری رہے گا۔اسی کی طرف اشارہ وہ حدیث کرتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر مجدد مبعوث ہوگا اور اس کی طرف یہ آیت کریمہ اشارہ کرتی ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس دین کی محافظت اپنے ذمہ لی ہے۔پس جبکہ خدا کے ذمہ اس دین کی محافظت ہے تو اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ محافظت کے بارہ میں جو قدیم قانون خدا کا ہے اسی طریق اور منہاج سے وہ دین اسلام کی محافظت کرے گا۔وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلاً اور وہ طریق مجددین و مصلحین کا ہے۔غرض موحدین نے تو حد سے زیادہ بے قیدی اور آزادی کا راستہ کھول دیا ہے۔بغل میں مشکوۃ یا بخاری یا مسلم