فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 219
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 219 کیلئے کوئی سبیل بنا دے گا۔ایک کی نیکی اور نیک خیال کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے۔کوئی اپنی جگہ پر استقلال رکھے تو سود خوار بھی مفت دینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔" البدر نمبر 5 جلد 7 مؤرخہ 6 فروری 1908 ء صفحہ 6,5) (۲۷۸) معاملات تجارت میں سود ایک صاحب کا خط حضرت کی خدمت میں پہنچا کہ جب بینکوں کے سود کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کی حالت کو مد نظر رکھ کر اضطرار کا اعتبار کیا جائے۔سو اضطرار کا اصول چونکہ وسعت پذیر ہے اس لئے ذاتی، قومی ہلکی ، تجارتی وغیرہ اضطرارات بھی پیدا ہو کر سود کا لین دین جاری ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ فرمایا:۔اس طرح سے لوگ حرام خوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔ہم نے یہ نہیں کہا کہ بینک کا سود بہ سبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے بلکہ اشاعت اسلام میں اور دینی ضروریات میں اس کا خرچ جائز ہونا بتلایا گیا ہے۔وہ بھی اس وقت تک کہ امداد دین کے واسطے رو پیل نہیں سکتا اور دین غریب ہو رہا ہے۔کیونکہ کوئی شے خدا کے واسطے تو حرام نہیں۔باقی رہی اپنی ذاتی اور ملکی اور قومی اور تجارتی ضروریات۔سوان کے واسطے اور ایسی باتوں کے واسطے سود بالکل حرام ہے۔وہ جواز جو ہم نے بتلایا ہے وہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً کسی جاندار کو آگ میں جلا نا شرعا منع ہے لیکن ایک مسلمان کے واسطے جائز ہے کہ اس زمانہ میں اگر کہیں جنگ پیش آوے تو توپ بندوقوں کا استعمال کرے کیونکہ دشمن بھی اس کا استعمال کر رہا ہے۔" البدر نمبر 5 جلد 7 مؤرخہ 6 فروری 1908 ء صفحہ 7) ایک شخص نے کہا کہ تجارت کے متعلق خواہ نخواہ سود دینا پڑتا ہے۔فرمایا:۔" ہم جائز نہیں رکھتے۔مومن ایسی مشکلات میں پڑتا ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ خود اس کا تکفل کرتا ہے۔عذرات سے شریعت باطل ہو جاتی ہے۔کونسا امر ہے جس کیلئے کوئی عذر آدمی نہیں تراش سکتا ہے۔خدا سے ڈرنا چاہئے۔" الحکم نمبر 39 جلد 9 مؤرخہ 10 رنومبر 1905 صفحہ 5)