فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 218

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 218 شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے۔مگر سود کیلئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کیلئے تو ارشاد ہے يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِيْنَ۔فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَ رَسُوْلِهِ - اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اسے حاجت ہی نہیں پڑتی۔مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بد عملیوں کا نتیجہ ہے۔ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں۔مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہو جاتے ہیں خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ کے مصداق۔بس کیا ضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں۔انسان کو چاہئے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مدنظر رکھے تا کہ سودی قرضہ اُٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ابھی کل ایک شخص کا خط آیا تھا۔کہ ہزار روپیہ دے چکا ہوں ابھی پانچ چھ سو باقی ہے۔پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دیدیتی ہیں۔مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ۔جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے۔پس وہاں سے ڈگری جاری ہو جاتی ہے۔اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کر کے تجارتی طور سے اسے فروغ دیتے تا کہ کسی بھائی کو سود پر قرضہ لینے کی حاجت نہ ہوتی بلکہ اس مجلس سے ہر صاحب ضرورت اپنی حاجت روائی کر لیتا اور میعاد مقررہ پر واپس دیدیتا۔" ( احمدی متمول احباب توجہ کریں۔) حکیم فضل دین صاحب نے سنایا کہ علامہ نورالدین بھیرہ میں حدیث پڑھا رہے تھے۔باب الربو تھا۔ایک سود خور ساہوکار آکر پاس بیٹھ گیا۔جب سود کی ممانعت سنی تو کہا اچھا مولوی صاحب آپ کو نکاح کی ضرورت ہو تو پھر کیا کریں۔انہوں نے کہا بس ایجاب قبول کر لیا جائے۔پوچھا۔اگر رات کو گھر میں کھانا نہ ہو تو پھر کیا کرو۔کہا۔لکڑیوں کا گٹھا باہر سے لاؤں روز بیچ کر کھاؤں۔اس پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ کہنے لگا آپ کو دس ہزار تک اگر ضرورت ہو تو مجھ سے بلا سود لے لیں۔فرمایا:۔"دیکھو جو حرام پر جلدی نہیں دوڑتا بلکہ اس سے بچتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کیلئے حلال کا ذریعہ نکال دیتا ہے مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا جو سود دینے اور ایسے حرام کاموں سے بچے۔خدا تعالیٰ اس