فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 217
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 217 کرے خاص کر بعد کی وصولی میں ہر ج بھی ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص اخبار لینا چاہتا ہے تو وہ پہلے بھی دے سکتا ہے یہ امر خود اس کے اختیار میں ہے۔والسلام۔مرزا غلام احمد۔" البدر نمبر 7 جلد 6 مؤرخہ 14 فروری 1907 ء صفحہ 4) (۲۷۷) سود کا علاج ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھ پر بڑا قرض ہے۔دعا کیجئے۔فرمایا:۔" تو بہ واستغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو استغفار کرتا ہے اسے رزق میں کشائش نا ہے۔" " پھر پوچھا کہ اتنا قرض کس طرح چڑھ گیا ؟ اس نے کہا بہت سا حصہ سورہی ہے۔فرمایا:۔بس پھر تو یہ شامت اعمال ہے۔جو شخص اللہ کے حکم کو توڑتا ہے اسے سزا ملتی ہے۔خدا تعالیٰ نے پہلے فرما دیا کہ اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو لڑائی کا اعلان ہے۔خدا کی لڑائی یہی ہے کہ ایسے لوگوں پر عذاب بھیجتا ہے۔پس یہ مفلسی بطور عذاب اور اپنے کئے کا پھل ہے۔" اس شخص نے کہا کیا کریں مجبوری سودی قرضہ لیا جاتا ہے۔فرمایا:۔"جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے خدا اس کا کوئی سب پردہ غیب سے بنادیتا ہے۔افسوس کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کیلئے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقعہ نہیں بنا تا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔یاد رکھو جیسے اور گناہ ہیں مثلاً زنا۔چوری۔ایسے ہی یہ سود دینا اور لینا ہے۔کس قدر نقصان دہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا، حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔معمولی زندگی میں ایسا کوئی امر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو جو انسان سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔مثلاً نکاح ہے اس میں کوئی خرچ نہیں طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہو گیا۔بعد ازاں ولیمہ سنت ہے۔سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے۔انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کیلئے خدا تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔دیکھو! سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں۔سو رکا کھانا بحالت اضطرار جائز رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی جو