فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 194

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 194 نمبر ۱۳۔۱۸۸۹ء کافی ہے کہ جب گوروں کو اس ملک میں نکاح کی ضرورت ہوئی تو مذہبی روکوں کی وجہ سے نکاح کا انتظام نہ ہو سکا اور نہ گورنمنٹ اس فطرتی قانون کو تبدیل کر سکی جو جذبات شہوت کے متعلق ہے۔آخر یہ قبول کیا گیا کہ گوروں کا بازاری عورتوں سے ناجائز تعلق ہو۔کاش! اگر اس کی جگہ پر متعہ بھی ہوتا تو لاکھوں بندگان خدا زنا سے تو بچ جاتے۔" فرمایا:۔( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 69 تا 71 مطبوعہ نومبر 1984 ء ) (۲۴۶) غیر حائضہ عورت کی عدت اور جو عورتیں حیض سے نومید ہوگئی ہیں ان کی مہلت طلاق بجائے تین حیض کے تین مہینہ ہیں اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا خدا اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا۔یہ خدا کا حکم ہے جو تمہاری طرف اُتارا گیا اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور حتی الوسع طلاق سے دست بردار رہے گا خدا اس کے تمام گناہ معاف کر دے گا اور اس کو بہت بڑا اجر دے گا۔" فرمایا:۔( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 53 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۲۴۷) حمل دار کی عدت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ أُولَاتُ الْأَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ أَنْ يُضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (الجزو نمبر (۲۸) یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں۔اس میں یہی حکمت ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ بھی ٹھہر جائے تو اس صورت میں نسب ضائع ہوگی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔" ( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 21 مطبوعہ نومبر 1984 ء )