فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 184

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 184 ان کے یہ جوش فرو ہونگے تو پھر ان کی مخالفت باقی نہ رہے گی۔اسی واسطے وہ اس وقت ان کی وہ درخواست لینا مصلحت کے خلاف جانتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی مرد اور عورت کے الگ ہونے کے واسطے ایک کافی موقعہ رکھ دیا ہے۔یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ طرفین کو اپنی بھلائی برائی کے سوچنے کا موقع مل سکتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے الطَّلَاقُ مَرَّتن یعنی دو دفعہ کی طلاق ہونے کے بعد یا اسے اچھی طرح سے رکھ لیا جاوے یا احسان سے جدا کر دیا جاوے۔اگر اتنے لمبے عرصے میں بھی ان کی آپس میں صلح نہیں ہوتی تو پھر ممکن نہیں کہ وہ اصلاح پذیر ہیں۔" الحکم نمبر 13 جلد 7 مؤرخہ 10 را پریل 1903 صفحہ 14 سوال:۔ایک وقت میں طلاق کامل ہو سکتا ہے یا نہیں اور تین طلاق کے بعد پہلا خاوند نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ جواب:۔" ایک ہی وقت میں طلاق کامل نہیں ہو سکتی دراصل تین ماہ میں ہونی چاہئے۔فقہا نے ایک مرتبہ تین طلاق دیدینے کو جائز رکھا ہے لیکن اس میں یہ رعایت رکھی گئی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کر سکتی ہے۔" سوال:۔جب تین طلاق ہو جاویں تو کیا پہلا خاوند پھر بھی نکاح کرسکتا ہے؟ جواب:۔" جب تین طلاق واقع ہو جائیں تو پہلا خاوند اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک کسی دوسرے سے وہ نکاح نہ کرے اور پھر وہ خاوند اس کو طلاق دیدیوے مگر عمد اس لئے نہ دے کہ پہلا شخص اس سے نکاح کرے۔اس کا نام حلالہ ہے اور یہ حرام ہے۔ہاں اگر ایسے اسباب پیش آ جاویں کہ وہ دوسرا شخص اس عورت کو طلاق دید یوے تو پھر وہ پہلے شخص سے شادی کر سکتی ہے لیکن اگر ایک ہی مرتبہ تین طلاق دی جاویں اور پھر عدت گزرنے کے بعد وہی خاوند نکاح کرنا چاہے تو وہ نکاح کر سکتا ہے کیونکہ اس کی یہ طلاق شرعی طریق پر نہیں دی گئی جس میں تین ماہ کی عدت مقرر ہے۔اور اس میں حکمت یہ ہے کہ ہر ایک اپنے نفع و نقصان کو سمجھ لے۔دو طلاقیں دے کر اگر تیسری نہیں دی اور عدت