فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 180

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 180 کی دعائیں پہلے ہی سے قبول شدہ کے حکم میں ہوتی ہیں۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 33 جلد 2 مؤرخہ 29 /اکتوبر 1898 ء صفحہ 3) (۲۳۸) عورتوں کے حقوق و معاشرت عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی مختصر الفاظ میں وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ ہر ایک قسم کے حقوق بیان فرما دیئے۔یعنی جیسے حقوق مردوں کے عورتوں پر ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر بھی ہیں۔بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے ، حقارت کی نظر سے دیکھتے اور پردہ کے حکم کو ایسے ناجائز طریق سے کام میں لاتے ہیں کہ گویا وہ زندہ در گور ہوتی ہیں۔چاہئے کہ عورتوں سے انسان کا دوستانہ طریق اور تعلق ہو۔اصل میں انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر ان سے اس کے تعلقات اچھے نہیں تو پھر خدا سے کس طرح ممکن ہے کہ صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا ہے کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِهِ۔اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرنے والا ہی تم میں سے بہترین ہے۔الحکم نمبر 18 جلد 7 مؤرخہ 17 مئی 1903ء صفحہ 12 ) فرمایا:۔در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہرو۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور حدیث میں ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاهْلِهِ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کیلئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔" ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 75 حاشیہ، مطبوعہ نومبر 1984ء)