فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 171

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 171 فرمایا:۔(۲۳۵) شادی میں لڑکیوں کا گانا سوال کیا گیا کہ لڑکی یا لڑکے والوں کے ہاں جو جوان عورتیں مل کر گھر میں گاتی ہیں وہ کیسا ہے؟ اصل یہ ہے کہ یہ بھی اسی طرح پر ہے۔اگر گیت گندے اور نا پاک نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے۔مسجد میں ایک صحابی نے خوش الحانی سے شعر پڑھے تو حضرت عمر نے ان کو منع کیا۔اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ کے سامنے پڑھے ہیں تو آپ نے منع نہیں کیا۔بلکہ آپ نے ایک بار اس کے شعر سنے تو آپ نے اس کیلئے رحمتہ اللہ فرمایا۔اور جس کو آپ یہ فرمایا کرتے تھے وہ شہید ہو جایا کرتا تھا۔غرض اس طرح پر اگر وہ فسق و فجور کے گیت نہ ہوں تو منع نہیں۔مگر مردوں کو نہیں چاہئے کہ عورتوں کی ایسی مجلسوں میں بیٹھیں۔یہ یاد رکھو کہ جہاں ذرا بھی منہ فسق و فجور کا ہو وہ منع ہے۔بزهد و ورع کوش وصدق و صــفـــــا ولیکن میفزا ن میفزائی بر م ر مصطفی ی ایسی باتیں ہیں کہ انسان ان میں خود فتویٰ لے سکتا ہے۔جو امر تقویٰ اور خدا کی رضا کے خلاف ہے، مخلوق کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے، وہ منع ہے۔اور پھر جو اسراف کرتا ہے وہ سخت گناہ کرتا ہے۔اگر ریا کاری کرتا ہے تو گناہ ہے۔غرض کوئی ایسا امر جس میں اسراف، ریاء، فستق، ایذائے خلق کا شائبہ ہو وہ منع ہے اور جو ان سے صاف ہو وہ منع نہیں، گناہ نہیں۔کیونکہ اصل اشیا کی حلت ہے۔" الحکم نمبر 37 جلد 6 مؤرخہ 17 اکتوبر 1902ء صفحہ 8) (۲۳۶) تعدد ازواج اور عورتوں میں عدل حضرت حکیم نورالدین صاحب کے ہاں صاحبزادہ پیدا ہونے کی اطلاع حضرت اقدس کو ہوئی تو آپ نے فرمایا:۔