فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 163
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 163 ایک کی نیت سے کیونکر آگاہ ہو سکتے ہیں۔یہ تو کمینہ لوگوں کی باتیں ہیں کہ زیادہ لینے کے ارادے سے دیں یا چھوٹی چھوٹی باتوں کا حساب کریں۔ایسے شریف آدمی بھی ہیں جو محض بہ تعمیل حکم تعاون و تعلقات محبت تنبول ڈالتے ہیں اور بعض تو واپس لینا بھی نہیں چاہتے بلکہ کسی غریب کی امداد کرتے ہیں۔غرض سب کا جواب ہے إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ " اخبار بدر نمبر 3 جلد 6 مؤرخہ 17 جنوری 1907 صفحہ (4) (۲۲۴) نابالغ کے نکاح کا شیخ سوال پیش ہوا کہ اگر نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح اس کا ولی کر دے اور ہنوز وہ نابالغ ہی ہو اور ایسی ضرورت پیش آوے تو کیا طلاق بھی ولی دے سکتا ہے یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ:۔"دے سکتا ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 30 جلد 6 مؤرخہ 25 جولائی 1907 ء صفحہ 11) (۲۲۵) خدا اور رسول کی حلال کردہ چیزوں میں سب سے بُری چیز فرمایا:۔" جائز چیزوں میں سے سب سے زیادہ بُرا خدا اور اس کے رسول نے طلاق کو قرار دیا ہے اور یہ صرف ایسے موقعوں کیلئے رکھی گئی ہے جب کہ اشد ضرورت ہو۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے جو رب ہے کہ سانپوں اور بچھوؤں کیلئے خوراک مہیا کی ہے۔ویسا ہی ایسے انسانوں کیلئے جن کی حالتیں بہت گری ہوئی ہیں اور جو اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتے۔طلاق کا مسئلہ بنا دیا ہے کہ وہ اس طرح ان آفات اور مصیبتوں سے بچ جاویں جو طلاق کے نہ ہونے کی صورت میں پیش آئیں یا بعض اوقات دوسرے لوگوں کو بھی ایسی صورتیں پیش آ جاتی ہیں اور ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ سوائے طلاق کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔پس اسلام نے جو کہ تمام مسائل پر حاوی ہے یہ مسئلہ طلاق کا بھی دکھلایا ہے اور ساتھ ہی اس کو مکر وہ بھی قرار دیا ہے۔" (اخبار بدر نمبر 38 جلد 6 مؤرخہ 19 ستمبر 1907 صفحہ 7)