فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 3

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 3 تاہم حدیثوں نے اس نور کو زیادہ کیا۔گویا اسلام نور علی نور ہو گیا اور حدیثیں قرآن اور سنت کیلئے گواہ کی طرح کھڑی ہوگئیں اور اسلام کے بہت سے فرقے جو بعد میں پیدا ہو گئے ان میں سے بچے فرقہ کو احادیث صحیحہ سے بہت فائدہ پہنچا۔پس مذہب اسلم یہی ہے کہ نہ تو اس زمانہ کے اہلحدیث کی طرح حدیثوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ قرآن پر وہ مقدم ہیں اور نیز اگر ان کے قصے صریح قرآن کے بیانات سے مخالف پڑیں تو ایسا نہ کریں کہ حدیثوں کے قصوں کو قرآن پر ترجیح دی جاوے اور قرآن کو چھوڑ دیا جائے اور نہ حدیثوں کو مولوی عبداللہ چکڑالوی کے عقیدہ کی طرح محض لغو اور باطل ٹھہرایا جائے۔بلکہ چاہئے کہ قرآن اور سنت کو حدیثوں پر قاضی سمجھا جائے اور جو حدیث قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو اس کو بسر و چشم قبول کیا جاوے۔یہی صراط مستقیم ہے۔مبارک وہ جو اس کے پابند ہوتے ہیں۔نہایت بد قسمت اور نادان وہ شخص ہے جو بغیر لحاظ اس قاعدہ کے حدیثوں کا انکار کرتا ہے۔" ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 209 تا 212 مطبوعہ نومبر 1984 ء ) فرمایا کہ:۔(۲) کتاب اللہ وسنت اور حدیث کے مدارج " یا درکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی خدا کی طرف سے آتا ہے تو وہ دو ذمہ داریاں لے کر آتا ہے اور ا آج رات مجھے رویا میں دکھایا گیا کہ ایک درخت باردار اور نہایت لطیف اور خوبصورت اور پھلوں سے لدا ہوا ہے اور کچھ جماعت تکلف اور زور سے ایک بوٹی کو اس پر چڑھانا چاہتی ہے جس کی جڑ نہیں بلکہ چڑھا رکھی ہے وہ بوٹی افتیمون کی مانند ہے اور جیسے جیسے وہ بوٹی اس درخت پر چڑھتی ہے اس کے پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس لطیف درخت میں ایک کھجو اہٹ اور بدشکلی پیدا ہو رہی ہے اور جن پھلوں کی اس درخت سے توقع کی جاتی ہے ان کے ضائع ہونے کا سخت اندیشہ ہے بلکہ کچھ ضائع ہو چکے ہیں۔تب میرا دل اس بات کو دیکھ کر گھبرایا اور پکھل گیا اور میں نے ایک شخص کو جو ایک نیک اور پاک انسان کی صورت پر کھڑا تھا پوچھا کہ یہ درخت کیا ہے اور یہ بوٹی کیا ہے جس نے ایسے لطیف درخت کو شکنجہ میں دبا رکھا ہے۔تب اس نے جواب میں مجھے یہ کہا کہ یہ درخت قرآن خدا کا کلام ہے اور یہ بوٹی وہ احادیث اور اقوال وغیرہ ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں یا مخالف ٹھہرائی جاتی ہیں اور ان کی کثرت نے اس درخت کو د بالیا ہے اور اس کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔