فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 155
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 155 چاہئے کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح آنکھوں کو خوب نیچا کر دیتا ہے اور شرم کے اعضاء کو زنا وغیرہ سے بچاتا ہے ورنہ روزہ رکھو کہ وہ خصی کر دیتا ہے۔اب ان آیات اور حدیث اور بہت سی اور آیات سے ثابت ہے کہ نکاح سے شہوت رانی غرض نہیں بلکہ بد خیالات اور بدنظری اور بدکاری سے اپنے تئیں بچانا اور نیز حفظ صحت بھی غرض ہے اور پھر نکاح سے ایک اور غرض بھی ہے جس کی طرف قرآن کریم میں یعنی سورۃ الفرقان میں اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا یعنی مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا ہمیں اپنی بیویوں کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزند نیک بخت ہوں اور ہم انکے پیشرو ہوں۔" فرمایا:۔( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 22, 23 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۲۱۴) تعدد ازدواج " ہمارے اس زمانہ میں بعض خاص بدعات میں عورتیں بھی مبتلا ہیں۔وہ تعدد نکاح کے مسئلہ کو نہایت بُری نظر سے دیکھتی ہیں گویا اس پر ایمان نہیں رکھتیں۔ان کو معلوم نہیں کہ خدا کی شریعت ہر ایک قسم کا علاج اپنے اندر رکھتی ہے۔پس اگر اسلام میں تعدد نکاح کا مسئلہ نہ ہوتا تو ایسی صورتیں جو مردوں کیلئے نکاح ثانی کیلئے پیش آجاتی ہیں، اس شریعت میں ان کا کوئی علاج نہ ہوتا۔مثلاً اگر عورت دیوانہ ہو جائے یا مجزوم ہو جائے یا ہمیشہ کیلئے کسی ایسی بیماری میں گرفتار ہو جائے جو بریکار کر دیتی ہے یا اور کوئی ایسی صورت پیش آجائے کہ عورت قابل رحم ہو مگر بیکار ہو جاوے اور مرد بھی قابل رحم کہ وہ تجرد پر صبر نہ کر سکے تو ایسی صورت میں مرد کے قومی پر یہ ظلم ہے کہ اس کو نکاح ثانی کی اجازت نہ دی جاوے۔در حقیقت خدا کی شریعت نے انہیں امور پر نظر کر کے مردوں کیلئے یہ راہ کھلی رکھی ہے اور مجبوریوں کے وقت عورتوں کیلئے بھی راہ کھلی ہے کہ اگر مرد بیکار ہو جاوے تو حاکم کے ذریعہ سے ضلع کرالیں ، جو طلاق کے