فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 154

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 154 فرمایا:- (۲۱۲) نکاح " آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام میں محض شہوت رانی کی غرض سے نکاح کیا جاتا ہے۔ہمیں قرآن نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ پر ہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو اور اولا دصالح طلب کرنے کیلئے دعا کرو جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينِ (الجزء نمبر ۵ یعنی چاہئے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تائم تقویٰ اور پرہیز گاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ حیوانات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو اور مُحْصِنِینَ کے لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتا وہ نہ صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔" ( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 19 ایڈیشن اول) (۲۱۳) اغراض وفوائد نکاح فرمایا:۔" قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں۔ایک عفت اور پرہیز گاری۔دوسری حفظ صحت۔تیسری اولاد۔اور پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ (الجزء نمبر ۱۸ ، سورۃ النور ) یعنی جو لوگ نکاح کی طاقت نہ رکھیں جو پر ہیز گار رہنے کا اصل ذریعہ ہے تو ان کو چاہئے کہ اور تدبیروں سے طلب عفت کریں۔چنانچہ بخاری اور مسلم کی حدیث میں آنحضرت علی اللہ فرماتے ہیں کہ جو نکاح کرنے پر قادر نہ ہو اس کیلئے پر ہیز گار رہنے کیلئے یہ تدبیر ہے کہ وہ روزے رکھا کرے اور حدیث یہ ہے يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجُ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاء (صحیح مسلم و بخاری) یعنی اے جوانوں کے گروہ جو کوئی تم میں سے نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو