فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 152
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 152 (۲۰۷) دائگی مسافر اور مریض فدیہ دے سکتے ہیں گزشتہ پر چہ اخبار نمبر 42 مؤرخہ 17 اکتوبر 1907ء کے صفحہ 7 کالم اول میں یہ لکھا گیا تھا کہ مریض اور مسافر ایام مرض اور ایام سفر میں روزہ نہ رکھیں بلکہ ان ایام کے عوض میں ماہ رمضان کے بعد دوسرے دنوں میں بصورت صحت اور قیام ان روزوں کو پورا کریں۔اسی عبارت کے اخیر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ "جو مریض اور مسافر صاحب مقدرت ہوں ان کو چاہیے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دیں۔" اس جگہ مریض اور مسافر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو کبھی امید نہیں کہ پھر روزہ رکھنے کا موقع مل سکے۔مثلاً ایک نہایت بوڑھا ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جود دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بہ سبب بچے کو دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی اور سال بھر اسی طرح گزر جائے گا۔ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں۔باقی اور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دیکر روزے کے رکھنے سے معذور سمجھا جا سکے۔چونکہ اخبار بدر کی مذکورہ بالا عبارت صاف نہ تھی اس واسطے یہ مسئلہ دوبارہ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا۔آپ نے فرمایا صرف فدیہ تو شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ور نہ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھول دینا ہے۔جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں۔اس طرح سے خدا تعالیٰ کے بوجھوں کو سر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ان کو ہی ہدایت دی جاوے گی۔" ( اخبار بد رنمبر 43 ، جلد 6 مؤرخہ 24 را کتوبر 1907 ء صفحه (3) (۲۰۸) روزہ دار کا خوشبو لگانا سوال پیش ہوا کہ روزہ دار کو خوشبولگا نا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔"جائز ہے۔" اخبار بدر نمبر 6 جلد 6 مؤرخہ 7 فروری 1907 ، صفحہ 4