فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 125

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 125 پس اسلام نے ان دونوں حقوق کو پورا کرنے کیلئے ایک صورت نماز کی رکھی جس میں خدا کے خوف کا پہلو رکھا ہے اور محبت کی حالت کے اظہار کیلئے حج رکھا ہے۔خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلل اور اقرار عبودیت اس میں موجود ہے اور حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں۔بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔سیالکوٹ میں ایک عورت ایک درزی پر عاشق تھی اسے بہتیرا پکڑ کر رکھتے تھے وہ کپڑے پھاڑ کر چلی آتی تھی۔غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کا لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔سرمنڈوایا جاتا ہے دوڑتے ہیں محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے۔پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔اسلام نے پورے طور پر ان حقوق کی تکمیل کی تعلیم دی ہے۔نادان ہے وہ شخص ج وہ جو اپنی نا بینائی سے اعتراض کرتا ہے۔" ایک شخص کے سوال پر فر مایا کہ:۔الحکم نمبر 26 جلد 6 مؤرخہ 24 جولائی 1902 ، صفحہ 3) (۱۵۶) نماز کیا ہے " نماز اصل میں دعا ہے۔نماز کا ایک ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دعا کا ہوتا ہے۔اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کیلئے تیار رہے کیونکہ جو شخص دعا ئیں نہیں کرتا وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دکھ اُٹھاتا ہوں۔مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔میں بہت رحم کرتا ہوں۔بیکسوں کی امداد کرتا ہوں لیکن ایک شخص جو کہ مشکل میں مبتلا ہے اس کے پاس سے گزرتا ہے اور اس کی ندا کی پروا نہیں کرتا نہ اپنی مشکل کا بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہوگا۔یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے کہ وہ تو ہر وقت انسان کو آرام دینے کیلئے تیار ہے۔بشرطیکہ کوئی اس سے درخواست کرے قبولیت دعا کیلئے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دعا بڑے زور سے کرے کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پیدا ہوتی ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 25 جلد 3 مؤرخہ یکم جون 1904ء صفحہ 6)