فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 118
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 118 کیا ہوتا؟ کیا آپ کو وہ اعلیٰ درجہ کے مراتب مل سکتے جواب ملے ہیں؟ کبھی نہیں۔ پھر جبکہ ابراہیم علیہ سلام آپ کے بزرگ بھی تھے اور آپ نے ان کی قبر پر جا کر یا بیٹھ کر ان سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کسی اور قبر پر جا کر آپ نے اپنی کوئی حاجت پیش کی تو یہ کس قدر بے وقوفی اور بے دینی ہے کہ آج مسلمان قبروں پر جا کر ان سے مرادیں مانگتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ اگر قبروں سے کچھ مل سکتا تو اس کیلئے سب سے پہلے آنحضرت علیم اللہ قبروں سے مانگتے مگر نہیں ۔ مردہ اور زندہ میں جس قدر فرق ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔ بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی مخلوق اور ہستی نہیں ہے جس کی طرف انسان توجہ کرے اور اس سے کچھ مانگے ۔ رسول الله علیهما السلام ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو نیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلَى رَبِّهِ یعنی محمد اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے علی اللہ علیه وسلم - " الحکم نمبر 5 جلد 8 مؤرخہ 10 فروری 1904ء صفحہ 3,2) اخبار بدر نمبر 8 جلد 3 مورخہ 24 فروری 1904ء صفحه 4,3) (۱۴۸) تعویذ باندھنا، دم کرنا استفسار: تعویذ کا باندھنا یا دم وغیرہ کرانا کیسا ہے؟ بجواب حضرت اقدس نے حضرت مولوی حکیم نور الدین کی طرف مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ نے حادیث میں اس کے متعلق کچھ پڑھا ہے؟ عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید جب کبھی جنگوں میں جایا کرتے تھے تو آنحضرت علی الله کے موئے مبارک پگڑی یا ٹوپی میں رکھ لیا کرتے تھے اور آگے کی طرف لڑکا لیتے اور جب ایک دفعہ آنحضرت نے سرمنڈوایا تو آدھے سرکے کئے ہوئے بال ایک شخص کو ے دیئے اور آدھے دوسرے حصہ کے باقی اصحاب کو بانٹ دیئے۔ آنحضرت صلی اللہ بعض اوقات جبہ شریف دھو کر مریضوں کو بھی پلایا کرتے تھے اور وہ شفایاب ہو جایا کرتے تھے۔ ایسا ہی ایک دفعہ د ایک عورت نے آپ کا پسینہ بھی جمع کر کیا۔ یہ سب سن کر حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ:۔ عليه وسلم " ان تعویذ و دموں کی اصل کچھ نہ کچھ ضرور ہے جو خالی از فائدہ نہیں۔ میرے الہام میں جو ہے کہ