فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 107

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 107 نفرت پیدا کرتا ہے لیکن اس کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیر بینیاں تیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں اور جب کھانڈ تیار کرتے ہیں تو اس کو پاؤں سے ملتے ہیں چوہڑے چمار گڑ وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جو ٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے اس طرح پر اگر تشدد ہو تو سب حرام ہو جاویں۔اسلام نے مالا يطاق تکلیف نہیں رکھی ہے بلکہ شریعت کی بنانرمی پر ہے۔" اس کے بعد سائل مذکور نے پھر اسی سوال کی اور باریک جزئیات پر سوال شروع کئے۔فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے لَا تَسْتَلُوْاعَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ بھی فرمایا ہے بہت کھودنا اچھا نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ متقی کو ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ متقیوں کو اللہ تعالیٰ خود پاک چیزیں بہم پہنچاتا ہے اور خبیث چیزیں خبیث لوگوں کیلئے ہیں اگر انسان تقویٰ اختیار کرے اور باطنی طہارت اور پاکیزگی حاصل کرے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پاکیزگی ہے تو وہ ایسی ابتلاؤں سے بچالیا جاوے گا۔ایک بزرگ کی کسی بادشاہ نے دعوت کی اور بکری کا گوشت بھی پکایا اور خنزیر کا بھی اور جب کھانا رکھا گیا تو عمد أسور کا گوشت اس بزرگ کے سامنے رکھ دیا اور بکری کا اپنے اور اپنے دوستوں کے آگے۔جب کھانا رکھا گیا اور کہا کہ شروع کرو تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ پر بذریعہ کشف اصل حال کھول دیا انہوں نے کہا ٹھہرو یہ تقسیم ٹھیک نہیں اور یہ کہہ کر اپنے آگے کی رکابیاں ان کے آگے اور ان کے آگے کی اپنے آگے رکھتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے کہ الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ الاية غرض جب انسان شرعی امور کو ادا کرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور بُری اور مکروہ باتوں سے اس کو بچالیتا ہے إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّی کے یہی معنی ہیں۔" الحکم نمبر 29 جلد 7 مؤرخہ 10 اگست 1903 ، صفحه 20) (۱۳۵) یا شیخ عبد القادر جیلانی شيئًا لله کہتا سوال ہوا کہ یا شیخ عبدالقادر جیلائی شَيْئًا لِللہ کہنا درست ہے کہ نہیں؟